جمعہ , جولائی 17 2026

6.7 ارب ڈالر کی رعایتی سعودی آئل فنانسنگ سہولت

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر پاکستان نے توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کی رعایتی آئل فنانسنگ سہولت کی درخواست کر دی ہے۔

وزارتِ اقتصادی امور کی ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب سے موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کے نئے مالیاتی انتظامات دونوں ممالک کے درمیان زیرِ غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے سعودی حکومت سے 15 سالہ مدت کے لیے ایک فیصد شرحِ سود پر آئل فنانسنگ پیکیج کی درخواست کی ہے، جس میں ابتدائی پانچ سال کا گریس پیریڈ بھی شامل ہے۔

حکام کے مطابق اس سہولت کے لیے دونوں ممالک کے درمیان وزارتی سطح پر ابتدائی مذاکرات ہو چکے ہیں، جبکہ حتمی شرائط پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔

پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 2019 سے موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کی سہولت حاصل رہی ہے۔ اس سلسلے میں آخری معاہدہ فروری 2025 میں طے پایا تھا، جس کی مدت اپریل 2025 میں ختم ہو گئی۔ اس سے قبل سعودی فنڈ برائے ترقی پاکستان کو تیل کی درآمدات کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 6.7 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کر چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بیرونی قرضوں، بالخصوص توانائی کے شعبے میں چین سے حاصل کیے گئے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بھی مختلف مالیاتی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق اگر ان قرضوں کی ری شیڈولنگ یا رعایتی شرائط پر اتفاق ہو جاتا ہے تو موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے اختتام کے بعد نئے پروگرام کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے جولائی سے مئی تک پاکستان نے تقریباً 14 ارب ڈالر مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جبکہ ایل این جی کی درآمدات میں 1.2 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

حالیہ دنوں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے ملاقات کی، جس میں توانائی، سرمایہ کاری اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

سعودی عرب اس وقت پاکستان کا اہم مالیاتی شراکت دار ہے۔ رواں ماہ کے آغاز تک سعودی عرب کے پاکستان میں مجموعی نقد ڈپازٹس 8 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران سعودی عرب سے پاکستانیوں نے 9.8 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھی وطن بھیجیں، جو مجموعی ترسیلاتِ زر کا تقریباً 24 فیصد بنتی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بجلی کا گردشی قرضہ 1.924 کھرب روپے

پاکستان کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 31 مئی 2026 تک بڑھ کر 1.924 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے