جمعہ , جولائی 17 2026

سیاسی بینر لہرانے پر فیفا کی ممکنہ کارروائی

فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو 2-1 سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنانے والی ارجنٹینا کی قومی ٹیم کو میچ کے بعد سیاسی بینر لہرانے پر فیفا کی ممکنہ تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میچ کے اختتام پر ارجنٹائن کے مڈفیلڈر جیووانی لو سیلسو اور سینئر دفاعی کھلاڑی نکولاس اوتامندی نے جشن کے دوران “مالویناس ارجنٹینا کا حصہ ہے” لکھا ہوا بینر اٹھایا، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ نعرہ فاکلینڈ جزائر پر ارجنٹینا کے تاریخی دعوے کی علامت ہے۔ فیفا اور انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (IFAB) کے قوانین کے تحت عالمی مقابلوں کے دوران سیاسی نوعیت کے نعروں، علامات یا بینرز کی نمائش ممنوع ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں کھلاڑیوں یا پوری ٹیم کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ارجنٹینا کی نائب صدر وکٹوریہ ویارویل نے بھی سوشل میڈیا پر اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “مالویناس ارجنٹینا کا ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس بینر کو اسٹیڈیم میں لانے سے روکا گیا، لیکن یہ دعویٰ ارجنٹینی عوام کے دلوں اور خون میں شامل ہے۔

مالویناس، جسے برطانیہ فاکلینڈ جزائر کے نام سے جانتا ہے، جنوبی بحر اوقیانوس میں ارجنٹینا کے ساحل سے تقریباً 480 کلومیٹر دور واقع برطانوی زیرِ انتظام علاقہ ہے۔ ان جزائر کی ملکیت پر برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان کئی دہائیوں سے تنازع جاری ہے۔

1982ء میں ارجنٹینا نے ان جزائر پر قبضے کی کوشش کی تھی، جس کے نتیجے میں برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان فاکلینڈ جنگ چھڑ گئی۔ دو ماہ سے زائد جاری رہنے والی اس جنگ میں 649 ارجنٹینی فوجی، 255 برطانوی اہلکار اور تین شہری ہلاک ہوئے تھے، جبکہ جنگ کے اختتام پر ارجنٹینا کو پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی۔

ارجنٹینا نے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو شکست دے کر ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ تو بنا لی، تاہم اب ٹیم کی کامیابی پر فیفا کی ممکنہ تادیبی کارروائی کے سائے بھی منڈلانے لگے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ڈرامہ “دارِ نجات” کا پہلا ٹیزر جاری

پاکستان کے معروف اداکار شہریار منور اور درفشاں سلیم کی نئی ڈرامہ سیریل “دارِ نجات” …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے