
پاکستان کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 31 مئی 2026 تک بڑھ کر 1.924 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جس سے حکومت کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کیا گیا ہدف حاصل کرنا ممکن نہ رہا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق پاور ڈویژن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بتایا کہ گردشی قرضہ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس میں 873 ارب روپے بینکوں کے ذمے واجب الادا قرض بھی شامل ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا تھا کہ 30 جون 2026 تک گردشی قرضہ کم کرکے 1.614 کھرب روپے تک لایا جائے گا، تاہم یہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق مالی سال کے اختتام پر گردشی قرضہ تقریباً 1.835 کھرب روپے رہا، جو مقررہ ہدف سے دو سو ارب روپے سے زائد زیادہ تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ گردشی قرضے میں اضافے کی بڑی وجوہات کے الیکٹرک کی جانب سے تقریباً 200 ارب روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی اور متعدد بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی کمزور مالی کارکردگی ہیں، جس کے باعث بجلی کے شعبے میں نقدی کا شدید بحران پیدا ہوا۔
پاور ڈویژن نے ای سی سی سے درخواست کی کہ بجلی کے شعبے میں مالی دباؤ کم کرنے اور آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے 152 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ جاری کی جائے، جبکہ کے الیکٹرک کے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی فنڈ سے 97.649 ارب روپے دیگر تقسیم کار کمپنیوں کی ضروریات کے لیے منتقل کیے جائیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران بجلی کے شعبے کے لیے 893 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی تھی، جن میں سے 257 ارب روپے سرکاری پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کے لیے حکومتی ایکویٹی کی مد میں رکھے گئے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اس رقم میں سے صرف 105 ارب روپے جاری کیے جا سکے جبکہ 152 ارب روپے کی ادائیگی باقی رہی۔
پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا کہ اضافی مالی وسائل کی ضرورت نہیں بلکہ پہلے سے مختص بجٹ کی بروقت فراہمی سے گردشی قرضے میں کمی لائی جا سکتی تھی۔
ای سی سی کے اجلاس میں کے الیکٹرک کے واجبات پر بھی غور کیا گیا اور پاور ڈویژن کو ہدایت دی گئی کہ عدالتی فیصلے کے بعد وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کے ساتھ مل کر اس معاملے کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
اجلاس کے بعد ای سی سی نے پاور ڈویژن کی مکمل درخواست منظور کرنے کے بجائے 54.451 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی، جبکہ باقی رقم کے لیے متبادل مالی انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔
آئی ایم ایف نے اپنی حالیہ اسٹاف رپورٹ میں توقع ظاہر کی تھی کہ پاکستان گردشی قرضے کو 30 جون تک 1.614 کھرب روپے تک محدود رکھنے میں کامیاب ہو جائے گا، تاہم سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا۔
UrduLead UrduLead