
مون سون کے موسم میں بارشوں کے ساتھ بڑھنے والی گرمی اور حبس نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ مختلف موسمی بیماریوں کے خطرات میں بھی نمایاں اضافہ کر دیتی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے نہ صرف ان بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ جسمانی قوتِ مدافعت بھی مضبوط بنائی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران سب سے زیادہ عام ہونے والی بیماریوں میں نزلہ، زکام، فلو، گلے کا انفیکشن، ڈینگی، ملیریا، ٹائیفائیڈ، ہیضہ، اسہال، فوڈ پوائزننگ، جلدی انفیکشن، فنگس، گرمی دانے اور آنکھوں کی سوزش شامل ہیں۔ نمی اور گندگی کی وجہ سے جراثیم اور وائرس تیزی سے پھیلتے ہیں، جبکہ کھڑا پانی مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس موسم میں پانی اور خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریاں بھی تیزی سے بڑھتی ہیں، کیونکہ آلودہ پانی اور غیر معیاری کھانے معدے کے انفیکشن کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح زیادہ نمی جلد پر فنگس اور الرجی کے امکانات میں اضافہ کر دیتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق قوتِ مدافعت مضبوط رکھنے کے لیے متوازن غذا انتہائی ضروری ہے۔ روزانہ تازہ پھل، سبزیاں، دالیں، انڈے، مچھلی، دہی اور وٹامن سی سے بھرپور غذائیں استعمال کی جائیں۔ لیموں، مالٹا، امرود اور کینو جیسے پھل جسم کو بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
طبی ماہرین روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینے، آٹھ گھنٹے کی نیند لینے، ہلکی پھلکی ورزش یا واک کرنے اور ذہنی دباؤ سے بچنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جسمانی سرگرمی خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور مدافعتی نظام کو فعال رکھتی ہے۔
ڈینگی اور ملیریا سے بچاؤ کے لیے گھروں اور اردگرد کھڑا پانی جمع نہ ہونے دیا جائے، مچھر مار اسپرے اور مچھر دانی کا استعمال کیا جائے، جبکہ مکمل بازوؤں والے کپڑے پہننے کو بھی مفید قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش میں بھیگنے کے بعد فوراً خشک کپڑے پہنیں، گیلے جوتے یا جرابیں زیادہ دیر تک استعمال نہ کریں اور ہاتھوں کو صابن سے بار بار دھوئیں تاکہ جراثیم کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بخار، شدید جسمانی درد، مسلسل اسہال، سانس لینے میں دشواری یا جسم پر غیر معمولی خارش جیسی علامات ظاہر ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق مون سون کا موسم احتیاط، صفائی اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر کے محفوظ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ مضبوط قوتِ مدافعت انسان کو موسمی بیماریوں سے بہتر انداز میں محفوظ رکھتی ہے۔
UrduLead UrduLead