جمعہ , جولائی 17 2026

غیر قانونی سموں کا اجرا: موبائل کمپنیوں پر جرمانے

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سموں کے غیر قانونی اجرا، بائیومیٹرک تصدیق میں سنگین بے ضابطگیوں اور فرنچائز نیٹ ورک کی ناقص نگرانی پر ملک کی چاروں موبائل فون کمپنیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 74 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کر دیے ہیں۔

پی ٹی اے کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996ء کے سیکشن 23 کے تحت جاری کردہ متعدد فیصلوں کے مطابق چائنا موبائل پاکستان (زونگ) پر 15 کروڑ 56 لاکھ روپے جبکہ جاز (پی ٹی ایم ایل)، ٹیلی نار پاکستان اور یوفون (پی ٹی ایم ایل) میں سے ہر ایک پر 11 کروڑ 67 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔

اس کے علاوہ یوفون پر دو الگ مقدمات میں مزید 7 کروڑ 78 لاکھ روپے اور 3 کروڑ 89 لاکھ روپے کے اضافی جرمانے بھی عائد کیے گئے، جس کے بعد تمام آپریٹرز پر عائد مجموعی جرمانوں کی مالیت تقریباً 74 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

پی ٹی اے کے مطابق تحقیقات سے ثابت ہوا کہ موبائل کمپنیوں نے صارفین کی لازمی تصدیق (Subscriber Verification) سے متعلق قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا، حالانکہ غیر قانونی سموں کی فروخت، شناختی دستاویزات کے غلط استعمال اور فراڈ کی روک تھام کے لیے بارہا ہدایات جاری کی جا چکی تھیں۔

اتھارٹی نے بتایا کہ متعدد کیسز میں صارفین کے شناختی کارڈ (CNIC) پر ان کی معلومات، رضامندی یا جسمانی موجودگی کے بغیر سمیں جاری اور فعال کی گئیں، جو سبسکرائبر اینٹیسیڈنٹس ویریفکیشن ریگولیشنز اور بائیومیٹرک تصدیق کے معیاری طریقہ کار (SOPs) کی صریح خلاف ورزی ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق ایک اہم کیس میں زونگ کی ایک مجاز فرنچائز نے لاہور میں ایک شہری کے شناختی کارڈ پر اس کی لاعلمی میں سم جاری کی۔ بعد ازاں چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ، بائیومیٹرک تصدیقی آلات اور تقریباً 150 سمیں برآمد ہوئیں، جو سموں کے اجرا میں سنگین بے ضابطگیوں کا ثبوت قرار دیا گیا۔

اتھارٹی نے زونگ کا یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ سم نادرا کی بائیومیٹرک تصدیق کے بعد جاری کی گئی تھی۔ پی ٹی اے نے واضح کیا کہ صرف بائیومیٹرک تصدیق کامیاب ہونا کمپنی کو اس قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا کہ سم حقیقی صارف کی رضامندی اور قانون کے مطابق جاری کی جائے۔

اسی طرح ٹیلی نار پاکستان پر بھی جرمانہ عائد کیا گیا کیونکہ ایک صارفہ کے شناختی کارڈ پر اس کی اجازت کے بغیر مجاز فرنچائز کے ذریعے سم فعال کی گئی۔ تحقیقات کے دوران متعلقہ فرنچائز سے متعدد بائیومیٹرک ڈیوائسز، لیپ ٹاپ اور سموں کا ذخیرہ بھی برآمد ہوا۔

پی ٹی اے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ موبائل کمپنیاں یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتیں کہ فرنچائزز آزاد ادارے ہیں، کیونکہ قانون کے مطابق ہر جاری ہونے والی سم کی مکمل ذمہ داری متعلقہ لائسنس یافتہ آپریٹر پر عائد ہوتی ہے۔

یوفون کے خلاف مختلف تحقیقات میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی سموں کے اجرا کا انکشاف ہوا۔ ایک کارروائی کے دوران 12 ہزار 600 سے زائد فعال سمیں، بائیومیٹرک آلات اور دیگر سامان برآمد کیا گیا، جبکہ مختلف شہروں میں فرنچائزز کے ذریعے صارفین کی اجازت کے بغیر سمیں فعال کیے جانے کے شواہد بھی سامنے آئے۔

پی ٹی اے نے جاز پر بھی 11 کروڑ 67 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کمپنی نے سموں کے اجرا اور بائیومیٹرک تصدیق سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کی۔ تحقیقات کے مطابق متعدد سمیں صارفین کی جسمانی موجودگی اور واضح رضامندی کے بغیر جاری کی گئیں، جبکہ مجاز سیلز آؤٹ لیٹس اور بائیومیٹرک ویریفکیشن سسٹم (BVS) کے استعمال کی نگرانی بھی مؤثر نہیں تھی۔

ریگولیٹر نے مزید کہا کہ اگرچہ سموں کے اجرا کے لیے تفصیلی قواعد و ضوابط موجود ہیں، تاہم موبائل کمپنیوں نے اپنی فرنچائزز اور ریٹیل نیٹ ورک کی مؤثر نگرانی نہیں کی، جس کے باعث یہ خلاف ورزیاں مسلسل جاری رہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق کمپنیوں نے لائیو فنگر ڈیٹیکشن (LFD) ٹیکنالوجی اور بائیومیٹرک ڈیوائسز پر جیوفینسنگ جیسے حفاظتی اقدامات پر بھی مؤثر عمل درآمد نہیں کیا، حالانکہ یہ نظام شناختی چوری، بائیومیٹرک جعلسازی اور غیر مجاز سم ایکٹیویشن کی روک تھام کے لیے لازمی ہیں۔

اتھارٹی نے خبردار کیا کہ غیر قانونی طور پر جاری کی جانے والی سمیں صارفین کو شناختی چوری، سائبر فراڈ، مالی جرائم اور ٹیلی کمیونیکیشن نظام کے غلط استعمال جیسے سنگین خطرات سے دوچار کرتی ہیں۔ پی ٹی اے نے تمام موبائل کمپنیوں کو مقررہ مدت میں جرمانے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عدم ادائیگی کی صورت میں قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ڈرامہ “دارِ نجات” کا پہلا ٹیزر جاری

پاکستان کے معروف اداکار شہریار منور اور درفشاں سلیم کی نئی ڈرامہ سیریل “دارِ نجات” …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے