
عالمی منڈی میں مزید اضافے کا خدشہ
امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل تیسرے روز جاری فوجی کشیدگی نے عالمی تیل مارکیٹ کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جبکہ ماہرین نے قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت منگل کو مزید 2 فیصد اضافے کے بعد 84.91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 15 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ روز بھی برینٹ کروڈ میں تقریباً 9.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق امریکی افواج نے مسلسل تیسرے روز ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا، جن کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور بنانا تھا۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو آئل سپر ٹینکروں کو نشانہ بنایا جبکہ کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سیکیورٹی فیس وصول کی جائے گی، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اسپارٹا کموڈیٹیز کی سینئر تجزیہ کار جون گوہ کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی نہیں آتی، خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔
دریں اثنا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ شپ ٹریکنگ کمپنی “میرین ٹریفک” کے مطابق جمعہ سے اتوار تک صرف 57 بحری جہاز آبنائے سے گزرے، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ کمی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 آئل ٹینکر اور تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، لیکن حالیہ کشیدگی کے باعث سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
امریکی محکمہ توانائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ کی نگرانی میں گزشتہ روز تقریباً 85 لاکھ بیرل خام تیل آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے منتقل کیا گیا، تاہم مارکیٹ میں خدشات برقرار ہیں۔
ٹی ڈی سیکیورٹیز کے کموڈیٹی اسٹریٹجی سربراہ بارٹ میلک کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی حقیقی قلت کے آثار نمایاں ہوئے تو برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نہ صرف عالمی تیل منڈی بلکہ دنیا بھر کی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی سپلائی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead