
مفتی تقی عثمانی کے فتوے کے بعد نئی قانونی و معاشی بحث شروع
پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کو قانونی دائرے میں لانے کی حکومتی کوششوں کے دوران معروف اسلامی اسکالر مفتی تقی عثمانی کے فتوے نے اس شعبے کی شرعی حیثیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
دارالعلوم کراچی کی جانب سے مفتی تقی عثمانی اور دیگر علما کے دستخط سے جاری کردہ فتوے میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ فتوے کے مطابق کرپٹو کرنسی شریعت کی رو سے “مال” یا “دولت” کی بنیادی تعریف پر پوری نہیں اترتی، کیونکہ یہ حقیقی اثاثہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل نظام میں موجود محض عددی اندراج ہے۔
یہ فتویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کو منظم کرنے کے لیے پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) قائم کر دی ہے اور کرپٹو مارکیٹ کے لیے قانونی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے۔
فتوے کے بعد پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے مفتی تقی عثمانی سے ملاقات کی، جس میں بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثوں، اسٹیبل کوائنز اور دیگر جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز کی شرعی حیثیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستانی شہریوں کو مالی فراڈ، استحصال اور ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلاک چین اور مختلف ڈیجیٹل اثاثوں کو ایک ہی زاویے سے دیکھنے کے بجائے ان کا تکنیکی اور شرعی دونوں پہلوؤں سے جامع جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کو مکمل طور پر مسترد کرنا درست نہیں، کیونکہ دنیا بھر میں اسے ایک قابل تجارت ڈیجیٹل اثاثے کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ سابق بینکار اور معاشی ماہر یوسف نذر کے مطابق کرپٹو کرنسی کو باآسانی امریکی ڈالر، یورو اور دیگر بڑی کرنسیوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، اس لیے اسے مال یا اثاثہ نہ ماننا جدید مالیاتی نظام سے ناواقفیت کی عکاسی کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کو تیز اور کم لاگت بنا سکتی ہے، کیونکہ بینکنگ نظام کے مقابلے میں اس کے ذریعے رقم چند گھنٹوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے مذہبی معاشرے میں اس نوعیت کے فتوے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور کرپٹو مارکیٹ کی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری اس شعبے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں علما، ریگولیٹرز اور ٹیکنالوجی ماہرین کے درمیان مسلسل مشاورت ہی ایسا متوازن راستہ نکال سکتی ہے جو اسلامی اصولوں اور جدید ڈیجیٹل معیشت دونوں کے تقاضوں کو پورا کرے۔
UrduLead UrduLead