ہفتہ , جولائی 11 2026

تعلیمی اداروں میں ہراسانی ناقابل برداشت

سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے خاتمے کے لیے اہم فیصلہ دیتے ہوئے ہر ادارے میں مؤثر ہراسانی پالیسی، انکوائری کمیٹی اور شکایات کے شفاف نظام کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کی روک تھام کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسا کوئی بھی تعلیمی ادارہ جو ہراسانی کو برداشت کرتا ہے، وہ اپنے بنیادی تعلیمی مقصد سے انحراف کرتا ہے اور طلبہ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ طاقت اور اختیار کے ذریعے ناانصافی کو قبول کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیصلے میں کہا کہ خواتین اساتذہ کو مرد ساتھیوں کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنا نہ صرف ایک سنگین جرم ہے بلکہ قانون، اخلاقیات، انسانی وقار اور کام کی جگہ کے تحفظ کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہر تعلیمی ادارے میں ہراسانی کے خلاف واضح ضابطہ اخلاق، مؤثر شکایتی نظام اور اعلیٰ حکام تک رپورٹنگ کا شفاف طریقہ کار موجود ہونا چاہیے تاکہ متاثرہ افراد بلاخوف اپنی شکایات درج کرا سکیں۔

عدالت نے وزارتِ تعلیم کو ہدایت دی کہ ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف ضابطہ اخلاق نمایاں مقامات پر آویزاں کیا جائے، جبکہ ہر ادارے میں ان ہاؤس انکوائری کمیٹی قائم کی جائے تاکہ خواتین اساتذہ کو فوری اور مؤثر انصاف فراہم کیا جا سکے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ غیر متعلقہ یا نازیبا تبصرے، جنسی نوعیت کے لطیفے یا پیغامات، آوازیں کسنا، ملازمت یا ترقی کے بدلے غیر اخلاقی مطالبات، بلا اجازت جسمانی رابطے کی کوششیں اور کام کی جگہ پر خوف یا عدم تحفظ کی فضا پیدا کرنا ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے اور قانون کے تحت ناقابل قبول ہے۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ہراسانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر فیصل آباد کے گریڈ 17 کے ملازم کامران خان کی اپیل زائد المعیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی اور محکمہ کی جانب سے دی گئی پانچ سالہ سروس ضبط کرنے کی سزا بحال کر دی۔ عدالت نے اس ضمن میں ٹربیونل کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے کی نقول وفاقی وزیر تعلیم، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز، سیکریٹریز اسکول و ہائر ایجوکیشن اور وفاقی و صوبائی محتسب کو ارسال کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

اسپین، بیلجیئم کو شکست دے کر ورلڈ کپ سیمی فائنل میں

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں اسپین نے بیلجیئم کو 1-2 سے شکست …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے