Related Articles

نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 13 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 11 جولائی سے کر دیا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 310 روپے 71 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 323 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا براہ راست اثر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین پر پڑے گا، جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے، پاور پلانٹس اور صنعتی سرگرمیوں کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکومت نے یکم جولائی سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دیا تھا، جبکہ اس کے ساتھ پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل بھی کیا گیا۔
اس وقت پیٹرول پر حکومت تقریباً 70 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی وصول کر رہی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کے علاوہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی نافذ ہے۔
اس کے علاوہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر کسٹمز ڈیوٹی اور ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن کی مد میں بھی وصولیاں کر رہی ہے، جس کے باعث دونوں ایندھن پر مجموعی ٹیکسوں کا بوجھ نمایاں طور پر بڑھ چکا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومت کے لیے سب سے زیادہ ریونیو فراہم کرنے والی پیٹرولیم مصنوعات ہیں، جن کی ماہانہ فروخت 7 لاکھ سے 8 لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف تقریباً 10 ہزار ٹن ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ کرے گا اور عام شہریوں، خصوصاً متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے سفری اور روزمرہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
UrduLead UrduLead