ہفتہ , جولائی 11 2026

موبائل فون کا استعمال صحت کے لیے خاموش خطرہ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات کا ضرورت سے زیادہ استعمال صرف ذہنی صحت ہی نہیں بلکہ گردن، ریڑھ کی ہڈی، بینائی، جلد، ہاتھوں کی طاقت اور جسمانی ساخت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

ڈیجیٹل دور میں اسمارٹ فون اور دیگر اسکرینوں کا بڑھتا ہوا استعمال انسانی جسم پر ایسے منفی اثرات مرتب کر رہا ہے جن کا احساس اکثر لوگوں کو نہیں ہوتا۔ طبی ماہرین کے مطابق موبائل فون اور ڈیجیٹل آلات کا طویل استعمال گردن، ریڑھ کی ہڈی، جلد، بینائی اور پٹھوں کی صحت کے لیے خاموش خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل موبائل فون کی طرف جھک کر دیکھنے سے گردن پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے، جسے عام طور پر “ٹیک نیک” کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں سر آگے کی جانب جھک جاتا ہے، جس سے ریڑھ کی ہڈی کے ڈسکس، جوڑوں اور پٹھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور وقت کے ساتھ جسمانی ساخت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ موبائل فون یا کمپیوٹر کی اسکرین کو آنکھوں کی سطح پر رکھا جائے، جبکہ ہر کچھ دیر بعد وقفہ لے کر جسم کو حرکت دینا بھی ضروری ہے تاکہ گردن اور کمر پر پڑنے والا دباؤ کم ہو سکے۔

جلد کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمارٹ واچ یا دیگر پہننے والے ڈیجیٹل آلات کو مسلسل استعمال کرنے سے جلد میں جلن، الرجی اور ایکزیما جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق گھڑی کو وقتاً فوقتاً اتار کر جلد کو صاف رکھنا اور حفاظتی کریم استعمال کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

بینائی کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسکرین کا استعمال براہِ راست نظر کمزور ہونے کی واحد وجہ نہیں، تاہم گھروں کے اندر زیادہ وقت گزارنے اور قدرتی روشنی سے دور رہنے کے باعث بچوں اور نوجوانوں میں مایوپیا یعنی قریب کی نظر کمزور ہونے کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس مسئلے سے بچنے کے لیے روزانہ کچھ وقت کھلی فضا میں گزارنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہاتھوں کی گرفت کی طاقت بھی جدید طرزِ زندگی سے متاثر ہو رہی ہے۔ کمپیوٹر اور موبائل پر زیادہ وقت گزارنے اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کے باعث نوجوانوں میں پٹھوں کی مضبوطی کم ہو رہی ہے، جو مستقبل میں صحت کے دیگر مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

تحقیقی ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ اسکرین کے مسلسل استعمال سے ہاتھ اور دماغ کے درمیان ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً بچوں میں باریک اور تخلیقی حرکات کی صلاحیت کمزور پڑنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں کو عملی سرگرمیوں، کھیل، دستکاری، موسیقی اور ہاتھ سے لکھنے جیسے مشاغل کی طرف راغب کیا جائے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، تاہم اس کا متوازن استعمال، باقاعدہ ورزش، وقفے وقفے سے حرکت، درست جسمانی نشست اور قدرتی ماحول میں وقت گزارنا جسمانی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں  کہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

اسپین، بیلجیئم کو شکست دے کر ورلڈ کپ سیمی فائنل میں

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں اسپین نے بیلجیئم کو 1-2 سے شکست …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے