
صارفین کی شدید تنقید اور پرائیویسی سے متعلق خدشات کے بعد میٹا نے انسٹاگرام کا متنازع “میوز امیج” اے آئی فیچر واپس لینے کا اعلان کر دیا، جس کے ذریعے عوامی پروفائلز کی تصاویر سے اے آئی امیجز بنائی جا سکتی تھیں۔
میٹا نے صارفین کی شدید تنقید اور پرائیویسی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے بعد انسٹاگرام کے متنازع مصنوعی ذہانت (AI) فیچر “میوز امیج” کو واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس فیچر کے ذریعے صارفین کسی بھی عوامی (پبلک) انسٹاگرام اکاؤنٹ کو صرف “@” مینشن کر کے اس شخص کی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر بنا سکتے تھے، جس پر دنیا بھر میں پرائیویسی، رضامندی اور ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے شدید اعتراضات سامنے آئے۔
فیچر کے اعلان کے فوراً بعد صارفین، ماہرین اور ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں نے سوال اٹھایا کہ کسی شخص کی واضح اجازت کے بغیر اس کی شناخت یا تصاویر کو اے آئی مواد بنانے کے لیے استعمال کرنا پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد میٹا نے اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ کمپنی اس معاملے میں صارفین کے خدشات کو درست انداز میں نہیں سمجھ سکی۔
میٹا کے ترجمان نے کہا کہ “ہم اس معاملے میں مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتر سکے اور صارفین کے تاثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیچر کو واپس لے رہے ہیں۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی ٹیکنالوجیز متعارف کراتے وقت صارفین کی رضامندی، پرائیویسی اور ڈیٹا کے تحفظ کو اولین ترجیح دینا ناگزیر ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال، ڈیپ فیک تصاویر اور ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead