
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے ہنگامی بنیادوں پر جاری کیے گئے اسپاٹ ایل این جی ٹینڈر (PLL/IMP/LNGT74) کی مالیاتی بولیوں کا نتیجہ جاری کر دیا، جس میں بی پی سنگاپور نے 18.2345 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی کم ترین بولی دے کر سب سے کم قیمت کی پیشکش کی
پی ایل ایل کی جانب سے جاری کردہ بڈ ایویلیوایشن رپورٹ کے مطابق تین بین الاقوامی کمپنیوں نے تکنیکی مراحل کامیابی سے مکمل کیے، جن کی مالیاتی بولیاں کھولی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق بی پی سنگاپور کی پیشکش سب سے کم رہی، جبکہ پیٹرو چائنا انٹرنیشنل نے 18.5991 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ٹوٹل انرجیز نے 18.7200 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی جمع کرائی۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق بی پی سنگاپور کو لوئسٹ ایویلیویٹڈ بڈر قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد کمپنی کے ساتھ معاہدے کے لیے باضابطہ کارروائی شروع کی جائے گی۔
یہ ہنگامی ٹینڈر اس وقت جاری کیا گیا تھا جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث قطر سے آنے والا طے شدہ ایل این جی کارگو منسوخ ہوگیا، جس سے ملک میں گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ اسی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے فوری طور پر اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے کا فیصلہ کیا۔
ٹینڈر کے مطابق تقریباً 140 ہزار مکعب میٹر ایل این جی کارگو 15 اور 16 جولائی کو پورٹ قاسم میں واقع پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ (PGPCL) ٹرمینل پر پہنچایا جائے گا تاکہ بجلی گھروں اور صنعتی شعبے کو گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
پی ایل ایل نے مالیاتی بولیاں 10 جولائی کو دوپہر ساڑھے تین بجے کھولیں، جبکہ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ اسی روز دوپہر دو بجے مقرر کی گئی تھی۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کی خریداری طویل المدتی معاہدوں کے مقابلے میں مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، جس سے درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ گرمیوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور ممکنہ لوڈشیڈنگ سے بچنے کے لیے فوری ایل این جی درآمد ناگزیر تھی۔
حکام کے مطابق کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد کارگو کی بروقت آمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ملک میں توانائی کی سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
UrduLead UrduLead