
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث ایل این جی سپلائی متاثر ہونے کے بعد فوری ضرورت کے تحت ایک اسپاٹ ایل این جی کارگو کی درآمد کے لیے ہنگامی ٹینڈر جاری کر دیا ہے، تاکہ ملک میں گیس اور بجلی کی ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔
9 جولائی کو جاری کیے گئے ٹینڈر نوٹس کے مطابق، پی ایل ایل نے بین الاقوامی سپلائرز سے تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے بولیاں طلب کی ہیں۔ یہ کارگو ڈیلیورڈ ایکس شپ (DES) بنیاد پر کراچی کے پورٹ قاسم میں واقع پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ (PGPCL) ٹرمینل پر 15 اور 16 جولائی کے درمیان پہنچایا جائے گا۔
یہ ہنگامی اقدام قطر سے طویل المدتی معاہدے کے تحت آنے والی ایک ایل این جی کارگو کی منسوخی کے بعد سامنے آیا ہے، جس کی وجہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور بحری جہازوں پر حملے بتائے جا رہے ہیں۔ نیشنل کرائسز مینجمنٹ کمیٹی (NCMC) نے ملک میں توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے اور گرمیوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے پی ایل ایل کو فوری طور پر اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے کی ہدایت کی تھی۔
ٹینڈر PLL/IMP/LNGT74 کے تحت جمع کرائی جانے والی بولیوں کی آخری تاریخ 10 جولائی دوپہر 2:30 بجے مقرر کی گئی ہے، جبکہ بولیاں اسی روز کھولی جائیں گی۔ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے ترمیم شدہ قواعد کے مطابق، پی ایل ایل رات 10 بجے تک کم ترین موزوں بولی قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ جاری کرے گی۔
رواں سال پاکستان کو طویل المدتی ایل این جی معاہدوں کے تحت سپلائی میں متعدد مرتبہ تعطل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث حکومت کو بارہا اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی خریدنے پر مجبور ہونا پڑا۔ توانائی ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی بلند قیمتیں اور مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی پاکستان کے درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس ہنگامی خریداری کا مقصد آر ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو ایندھن کی فراہمی یقینی بنانا اور ممکنہ لوڈشیڈنگ سے بچاؤ ہے۔ پی ایل ایل نے عالمی شہرت یافتہ ایل این جی ٹریڈنگ کمپنیوں کو ٹینڈر میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے، جبکہ کامیاب بولی دہندہ اور قیمت کی تفصیلات آج بعد میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
UrduLead UrduLead