
پنجاب میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (RLNG) کی فراہمی پر فورس میجر نافذ کر دیا ہے، جس سے کئی بڑے بجلی گھروں کی پیداوار متاثر ہونے کا امکان ہے۔
ایس این جی پی ایل نے پنجاب کے چار آر ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ 3 اگست تک گیس کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی۔ کمپنی کے مطابق یہ صورتحال خلیجی خطے میں جاری فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ایل این جی کارگو کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس تعطل سے پانچ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے والے گیس پاور پلانٹس متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ سندھ سے پنجاب اور بالائی علاقوں کو بجلی کی ترسیل بھی محدود ہونے کا خدشہ ہے۔
ایس این جی پی ایل نے پاور پلانٹس کو بھیجے گئے خطوط میں بتایا ہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) نے اطلاع دی ہے کہ قطر انرجی کی جانب سے 14 جولائی سے 3 اگست تک طے شدہ ایل این جی کارگو فراہم کرنا ممکن نہیں رہا۔ کمپنی نے مزید خبردار کیا ہے کہ 2026 کے سالانہ سپلائی پلان کے تحت آئندہ کارگو بھی تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ایس این جی پی ایل کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محدود آمدورفت دوبارہ شروع ہوئی ہے، تاہم سیکیورٹی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جس کے باعث کمپنی نے گیس سپلائی معاہدے کی فورس میجر شق نافذ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے عارضی استثنا حاصل کیا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت موجودہ ایل این جی ذخائر کی راشننگ پر غور کر رہی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار کو کسی حد تک برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم اگر صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کو عالمی اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی خریدنا پڑ سکتی ہے، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) کو مہنگے ڈیزل سے چلنے والے بجلی گھروں کو چلانا پڑ سکتا ہے، جس کا براہ راست بوجھ صارفین پر یا تو بجلی کے نرخوں میں اضافے یا پھر مزید لوڈشیڈنگ کی صورت میں پڑ سکتا ہے۔
پنجاب کے مختلف شہروں، خصوصاً لاہور میں، شہری پہلے ہی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ پاور ڈویژن نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو شام کے اوقات میں دو سے ڈھائی گھنٹے تک لوڈشیڈنگ محدود رکھنے کی ہدایت کی تھی، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ لاہور کے متعدد علاقوں میں روزانہ آٹھ سے چودہ گھنٹے جبکہ دیگر اضلاع میں چھ سے بارہ گھنٹے تک بجلی بند رہنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
شدید گرمی کے باعث بجلی کی طلب میں اضافے نے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے، جس سے گھریلو صارفین، طلبہ، اسپتالوں اور صنعتی شعبے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
لیسکو سمیت دیگر تقسیم کار کمپنیاں ہائی لاس فیڈرز کی مرمت اور نظام کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہیں، تاہم توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آر ایل این جی سپلائی میں تعطل سے یہ تمام اقدامات محدود اثرات ہی مرتب کر سکیں گے۔
حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں، جیسے لیسکو اور میپکو، کی جانب سے جاری کردہ فیڈر وائز لوڈشیڈنگ شیڈول پر نظر رکھیں اور آنے والے ہفتوں میں ممکنہ طویل بجلی بندش کے لیے پیشگی تیاری کریں۔
UrduLead UrduLead