جمعہ , فروری 13 2026

مرد اساتذہ کی طالبات سے ملاقات پر پابندی

خیبر پختونخوا کی تمام سرکاری جامعات میں مرد اساتذہ کو طالبات سے اپنے دفاتر میں تنہا یا براہ راست ملاقات کرنے پر سختی سے پابندی لگا دی گئی ہے۔

صوبائی محکمہ اعلیٰ تعلیم نے اس حوالے سے تمام جامعات کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا ہے، جس کا مقصد تعلیمی اداروں میں طالبات کے لیے محفوظ، شفاف اور بااعتماد ماحول کو یقینی بنانا ہے۔محکمہ اعلیٰ تعلیم کے جاری کردہ خط کے مطابق مرد اساتذہ اب طالبات کو اپنے دفاتر میں تنہا نہیں بلا سکیں گے۔ اس پابندی کا اطلاق تمام سرکاری یونیورسٹیوں اور ڈگری کالجوں پر ہوگا۔

اہم اقدامات اور ہدایات یہ ہیں:

  • ہر ڈپارٹمنٹ میں ایک خاتون فیکلٹی ممبر کی نامزدگی لازمی قرار دی گئی ہے۔ یہ خاتون اساتذہ طالبات کے مسائل، شکایات اور دیگر امور سن کر ان کے ازالے کو یقینی بنائیں گی اور مناسب اقدامات اٹھائیں گی۔
  • ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ کی آگاہی کے لیے تمام جامعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سال میں کم از کم ہر سہ ماہی (چار ماہ بعد) ایک سیمینار یا آگاہی پروگرام منعقد کریں۔ ان سیمینارز میں طالبات کو ہراسانی کے خلاف قانونی حقوق، شکایت درج کرانے کا طریقہ کار اور حفاظتی اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
  • یہ اقدامات طالبات کو ہراسانی اور غیر مناسب رویے سے تحفظ فراہم کرنے، اداروں میں احتساب بڑھانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ طالبات کی حفاظت اور صنفی تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے کیا گیا ہے۔ جامعات کو فوری طور پر ان ہدایات پر عمل درآمد شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ اقدام حالیہ برسوں میں یونیورسٹیوں میں طالبات کی ہراسانی کے واقعات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے، جس سے طالبات میں اعتماد بحال کرنے اور محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی میں مدد ملنے کی امید ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بنگلادیش عام انتخابات: ووٹنگ جاری

بنگلادیش میں آج 12 فروری 2026 کو 13ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے