
بنگلادیش میں آج 12 فروری 2026 کو 13ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ یہ ملک کی تاریخ کا سب سے اہم اور مقابلہ آمیز انتخابات ہیں جو 2024 کے جولائی انقلاب کے بعد شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد ہو رہے ہیں۔
انتخابات کمیشن کے مطابق تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق استعمال کریں گے، جن میں سے تقریباً 44 فیصد یعنی لگ بھگ 5 کروڑ 60 لاکھ نوجوان (18 سے 37 سال کی عمر) شامل ہیں۔
یہ نوجوان ووٹرز، جنہیں “جن زی” (Gen Z) بھی کہا جاتا ہے، 2024 کے طلبہ تحریک میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں اور اب ان کا ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
ملک بھر کے 299 پارلیمانی حلقوں (ایک حلقہ میں امیدوار کی وفات پر پولنگ منسوخ) میں پولنگ صبح 7:30 بجے شروع ہوئی اور شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی۔ ووٹنگ 42,000 سے زائد پولنگ سٹیشنز پر ہو رہی ہے۔
300 نشستوں پر مقابلہ بنیادی طور پر دو بڑے اتحادوں کے درمیان ہے:
- بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں طارق رحمان (سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے) جو لندن سے واپسی کے بعد وزیراعظم کے مضبوط امیدوار ہیں۔ بی این پی کو سروے میں برتری حاصل نظر آ رہی ہے۔
- جماعت اسلامی بنگلادیش کی سربراہی میں 11 جماعتوں کا اتحاد، جس میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) بھی شامل ہے جو 2024 کے انقلاب میں نوجوانوں کی قیادت کرنے والے عناصر پر مشتمل ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان وزیراعظم کے امیدوار ہیں اور نوجوانوں کو “جولائی انقلاب کے ہیرو” قرار دے کر ان سے ووٹ کی اپیل کر رہے ہیں۔
حکومت بنانے کے لیے کم از کم 151 نشستوں کی ضرورت ہے۔ عوامی لیگ (شیخ حسینہ واجد کی پارٹی) کو 2024 کے احتجاجی تشدد کی وجہ سے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے امن و امان کے لیے فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے 3 لاکھ سے زائد اہلکار تعینات کیے ہیں۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق پولنگ پرامن طریقے سے جاری ہے، البتہ کچھ علاقوں میں بی این پی اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
تاریخی ٹرن آؤٹ کی توقع ہے، کیونکہ یہ 15 سال بعد پہلا مقابلہ آمیز انتخابات ہیں۔ نتائج کا اعلان کل 13 فروری کو متوقع ہے۔ یہ انتخابات ملک کی جمہوریت کی بحالی اور مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے۔
UrduLead UrduLead