جمعرات , فروری 12 2026

پنجاب پولیس میں احتساب کا تضاد؟

PSP افسر محفوظ، رینکرز پر فوری ایکشن

پنجاب پولیس میں پولیس سروس آف پاکستان (PSP) اور صوبائی کیڈر کے افسران (رینکرز) کے خلاف شکایات پر کارروائی کے طریقہ کار میں واضح فرق سامنے آیا ہے، جس نے محکمہ پولیس کے احتسابی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں لاہور اور راولپنڈی میں پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات نے اس مبینہ “دوہری پالیسی” کو نمایاں کر دیا ہے۔

لاہور میں گریڈ 18 کے صوبائی کیڈر کے ایک افسر، ایس پی صدر ڈویژن انویسٹی گیشن میاں معظم، کو ہراسانی اور غیر قانونی حراست سے متعلق الزامات پر ہائی لیول انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر معطل کر دیا گیا۔

نئے تعینات انسپکٹر جنرل پنجاب عبدالکریم نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز جاری کر کے الزام عائد کیا کہ گرین ٹاؤن پولیس نے ان کے اہل خانہ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا اور ہراساں کیا۔

بعد ازاں جنوری 2026 میں جوڑے نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی۔ انکوائری میں الزامات کو درست قرار دیا گیا اور متعلقہ افسر کو معطل کر دیا گیا۔

دوسری جانب راولپنڈی میں گریڈ 19 کے PSP افسر اور سی پی او خالد ہمدانی کے خلاف بھی ہراسانی اور غیر قانونی حراست کی شکایات سامنے آئیں، تاہم ان کے خلاف کارروائی کا عمل مختلف دکھائی دیا۔ شکایت کنندہ فیض احمد، جو لاہور کے رہائشی ہیں، نے الزام عائد کیا کہ مالی تنازع کے ایک مقدمے میں انہیں مبینہ طور پر دو روز تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور دباؤ ڈال کر چیکس پر دستخط کروائے گئے۔ انہوں نے آئی جی آفس اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) پنجاب سے رجوع کیا۔

ذرائع کے مطابق، آئی جی آفس نے درخواست کو راولپنڈی آر پی او آفس بھیج دیا، جبکہ خالد ہمدانی خود آر پی او کا اضافی چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔

مزید برآں، ڈی جی اے سی ای سہیل ظفر چٹھہ نے مؤقف اختیار کیا کہ گریڈ 19 افسر کے خلاف انکوائری کے لیے چیف منسٹر کی منظوری درکار ہوتی ہے، اس لیے براہِ راست کارروائی ممکن نہیں۔

محکمہ پولیس کے بعض افسران کا کہنا ہے کہ PSP افسران عموماً اعلیٰ فیصلہ سازی اور کمانڈ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، جبکہ رینکرز زیادہ تر فیلڈ آپریشنز سنبھالتے ہیں، جس کے باعث احتساب کے عمل میں فرق محسوس کیا جا رہا ہے۔

ان دو واقعات نے پنجاب پولیس میں احتساب کے یکساں نظام سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ شفاف اور غیر جانبدار احتساب ہی عوامی اعتماد کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پی ایس ایل کا پہلا پلیئرز آکشن آج لاہور میں ہوگا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن کے لیے تاریخ ساز پلیئرز آکشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے