جمعرات , فروری 12 2026

38 ہزار سے زائد پاکستانی ڈی پورٹ

وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران خلیجی ممالک سے 38 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو مختلف قانونی خلاف ورزیوں پر ڈی پورٹ کیا گیا۔ سرکاری دستاویزات میں ملک بدر کیے جانے والے افراد کی تعداد، ممالک کی تفصیل اور وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب سے سب سے زیادہ 27 ہزار 692 پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا۔ متحدہ عرب امارات سے 6 ہزار 794 افراد ڈی پورٹ ہوئے، جبکہ عمان سے 2 ہزار 537 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا۔ اسی طرح بحرین سے 786، قطر سے 644 اور کویت سے 163 پاکستانی شہریوں کو وطن واپس آنا پڑا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی داخلہ ڈی پورٹیشن کی بڑی وجہ رہی، جس کے تحت 4 ہزار 872 افراد کو نکالا گیا۔ گمشدہ پاسپورٹ کے باعث 1 ہزار 933 پاکستانیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 1 ہزار 639 افراد بلیک لسٹ ہونے کی وجہ سے بے دخل کیے گئے۔ منشیات کے مقدمات میں 1 ہزار 25 اور چوری کے الزامات میں 109 افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا۔

مزید برآں، بھیک مانگنے کے الزام میں بھی بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا گیا۔ مجموعی طور پر 780 افراد اس الزام میں ڈی پورٹ ہوئے، جن میں اکثریت سعودی عرب (767) سے تھی، جبکہ 10 متحدہ عرب امارات، 2 قطر اور ایک عمان سے واپس آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں امیگریشن قوانین، لیبر ریگولیشنز اور سکیورٹی پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جس کے باعث معمولی خلاف ورزی بھی فوری قانونی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کو مکمل قانونی رہنمائی، درست دستاویزات اور مقامی قوانین سے آگاہی فراہم کی جائے۔

وزارتِ اوورسیز پاکستانیز نے بھی سفارش کی ہے کہ آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ پاکستانی شہری قانونی پیچیدگیوں سے بچ سکیں اور بیرونِ ملک ملک کی ساکھ برقرار رکھ سکیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پی ایس ایل کا پہلا پلیئرز آکشن آج لاہور میں ہوگا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن کے لیے تاریخ ساز پلیئرز آکشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے