Related Articles

بھارتی اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی نئی فلم ’ستلج‘ کو ریلیز کے صرف 48 گھنٹوں بعد او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو (ZEE5) سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
فلم 3 جولائی کو ریلیز کی گئی تھی، تاہم 5 جولائی کو اسے پلیٹ فارم سے اچانک ہٹا دیا گیا۔ زی فائیو نے اپنے بیان میں صرف اتنا کہا کہ “ستلج روک دی گئی، لیکن اس سے شروع ہونے والی گفتگو جاری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ جلد دوبارہ ناظرین کے لیے دستیاب ہوگی۔” تاہم پلیٹ فارم نے فلم ہٹانے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔
دلجیت دوسانجھ نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “اب اس فلم کو روکا نہیں جا سکتا، خالڑا صاحب کی آواز کو کوئی خاموش نہیں کرا سکتا۔”
یہ فلم معروف انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی اور ان کی جدوجہد پر مبنی ہے، جنہوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں اور لاوارث لاشوں کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا تھا۔ خالڑا کو 6 ستمبر 1995 کو ان کے گھر سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، جس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں آئے۔ بعد ازاں سی بی آئی کی تحقیقات میں ان کے اغوا اور قتل کا ذکر کیا گیا۔
فلم کا اصل نام “پنجاب 95” تھا، تاہم سنسر بورڈ کی ہدایات اور طویل قانونی پیچیدگیوں کے باعث اس کا نام تبدیل کر کے “ستلج” رکھا گیا۔ ہدایت کار ہنی ٹریہن کے مطابق فلم کو ابتدائی طور پر 21 سینسر کٹس کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بعد میں یہ تعداد 120 سے تجاوز کر گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کی اصل روح پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا گیا۔
ہدایت کار نے اس سے قبل کہا تھا کہ سنسر حکام نے یہاں تک مطالبہ کیا کہ فلم سے جسونت سنگھ خالڑا کا نام بھی ہٹا دیا جائے، جسے ٹیم نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق فلم آخرکار اپنی اصل شکل میں، بغیر کسی کٹ کے، صرف نئے نام کے ساتھ ریلیز کی گئی۔
فلم میں دلجیت دوسانجھ کے علاوہ ارجن رامپال، سوویندر وکی، جگجیت سندھو اور گیتیکا ودیا اوہلیان نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔
فلم کے اچانک ہٹائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے کا سلسلہ جاری ہے۔ متعدد صارفین اسے اظہارِ رائے کی آزادی اور حساس تاریخی موضوعات پر بننے والی فلموں کے حوالے سے ایک نئی بحث قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض حلقے حکام سے فلم کو دوبارہ نشر کرنے اور اس کی معطلی کی وجوہات واضح کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
UrduLead UrduLead