موسیقی، قرآنی آیات اور سیاسی اشاروں پر سوالات
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات نہ صرف لاکھوں افراد کی شرکت کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ان تقریبات کے دوران موسیقی، مختلف ممالک کے وفود کی آمد پر پڑھی جانے والی قرآنی آیات اور دیگر انتظامات بھی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔
تہران میں گزشتہ روز علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جبکہ کئی روز پر مشتمل آخری رسومات میں مختلف عرب، اسلامی اور بین الاقوامی وفود بھی شریک ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان تقریبات میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے لیے لاکھوں زائرین کی رہائش، ہزاروں سروس ٹینٹس اور خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے تقریب کے دوران مختلف سرکاری وفود کی آمد پر بجائی جانے والی موسیقی پر بھی سوالات اٹھائے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق آخری رسومات کے لیے “شہید لیڈر” کے عنوان سے خصوصی موسیقی ترتیب دی گئی ہے، جسے ایرانی موسیقار امیر حسین سمیعی نے تیار کیا۔ یہ موسیقی چھ مختلف حصوں پر مشتمل ہے، جنہیں رسومات کے مختلف مراحل سے منسلک کیا گیا ہے۔
تقریب کے دوران خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ رکھے گئے دیگر تابوت بھی صارفین کی توجہ کا مرکز بنے۔ مختلف سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ تابوت ان کے خاندان کے بعض دیگر افراد سے منسوب تھے، تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی۔
ایک اور موضوع جس نے وسیع بحث کو جنم دیا، مختلف غیر ملکی وفود کی آمد کے موقع پر پڑھی جانے والی قرآنی آیات تھیں۔ متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ ہر وفد کے لیے مختلف آیات کا انتخاب کیا گیا، جنہیں بعض افراد نے علامتی یا سیاسی پیغام قرار دیا۔
سعودی وفد کی آمد پر سورۂ آل عمران، قطری وفد کے موقع پر سورۂ الفتح، ترک وفد کے لیے سورۂ النساء، جبکہ حماس اور حزب اللہ کے وفود کی آمد پر دیگر مخصوص آیات کی تلاوت سوشل میڈیا پر زیر بحث رہی۔ تاہم کئی صارفین نے ان دعوؤں کو قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آیات کے انتخاب کو سیاسی مفہوم دینا درست نہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ یہ تقریبات جنگ کے بعد ایرانی ریاست کے اتحاد، تسلسل اور سیاسی استحکام کا تاثر دینے کی کوشش بھی ہو سکتی ہیں، جبکہ دیگر مبصرین کا مؤقف ہے کہ ایک بڑی مذہبی و قومی شخصیت کی آخری رسومات کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکومت نے اب تک ان مباحث پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم خامنہ ای کی آخری رسومات دنیا بھر میں سفارتی، مذہبی اور سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
UrduLead UrduLead
