جمعہ , جولائی 3 2026

کرپٹو معاہدہ: تاحال کوئی عملی فائدہ نہ مل سکا

پاکستان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے منسلک ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان ہونے والا کرپٹو معاہدہ چھ ماہ گزرنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہ کر سکا، جس سے اس کی افادیت اور مقاصد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے وابستہ کرپٹو کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل (WLF) کے ساتھ پاکستان کا ہائی پروفائل معاہدہ تاحال کسی عملی پیش رفت میں تبدیل نہیں ہو سکا، حالانکہ اس معاہدے کو ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور کرپٹو ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا تھا۔

رواں سال جنوری میں وزارت خزانہ نے ورلڈ لبرٹی فنانشل سے وابستہ کمپنی ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کا مقصد کمپنی کے ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائن “USD1” کو سرحد پار ادائیگیوں کے لیے استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔

معاہدے کی تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار، جن میں اسٹیو وٹکوف کے صاحبزادے زیک وٹکوف بھی شامل تھے، شریک ہوئے تھے۔

تاہم تقریباً چھ ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو USD1 کا کوئی پائلٹ منصوبہ شروع کیا گیا، نہ کمپنی کو کوئی باقاعدہ لائسنس جاری ہوا اور نہ ہی اس اسٹیبل کوائن کے ذریعے کسی مالی لین دین کی تصدیق ہو سکی۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی مالیاتی گوشواروں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 کے دوران ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ٹوکنز کی فروخت سے 50 کروڑ ڈالر سے زائد آمدن حاصل کی، جبکہ پاکستان کو اس معاہدے سے اب تک کوئی واضح معاشی یا مالی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کے اقتصادی فوائد کے بجائے اس کے سفارتی مقاصد زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام نے اسلام آباد کو ٹرمپ انتظامیہ تک رسائی ضرور فراہم کی، لیکن کرپٹو ادائیگیوں یا ترسیلات زر کے نظام میں کوئی عملی تبدیلی نظر نہیں آئی۔

پاکستان پہلے ہی دنیا کی بڑی کرپٹو مارکیٹوں میں شمار ہوتا ہے۔ چین اینالیسس (Chainalysis) کے مطابق گزشتہ برس کرپٹو اپنانے کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر تھا، تاہم غیر رسمی لین دین کا زیادہ تر حصہ پہلے سے موجود اسٹیبل کوائن “ٹیچر (USDT)” کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، جبکہ USD1 کے استعمال کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران بیرون ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیجیں، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ تھیں۔ مئی میں ماہانہ ترسیلات پہلی مرتبہ 4.25 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ رواں مالی سال میں یہ حجم 42 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

بینکاری اور مالیاتی ماہرین کے مطابق جب ترسیلات زر پہلے ہی تیزی سے باضابطہ بینکاری نظام کے ذریعے منتقل ہو رہی ہیں تو ایک نئے اسٹیبل کوائن کی ضرورت اور افادیت واضح نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے تجارتی شراکت دار USD1 کو براہ راست قبول نہیں کرتے تو اس ڈیجیٹل کرنسی کو دوبارہ امریکی ڈالر میں تبدیل کرنا پڑے گا، جس سے اضافی لاگت اور پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

اگرچہ حکومت نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ کے ذریعے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) قائم کر دی ہے اور کرپٹو کمپنیوں کے لیے قانونی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے، تاہم لائسنسنگ کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہوا اور کسی بھی عالمی کرپٹو کمپنی کو مکمل آپریشنل منظوری نہیں دی گئی۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ ہونے والا معاہدہ زیادہ تر سفارتی اہمیت کا حامل تھا۔ ان کے مطابق اس نے پاکستان کو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ براہ راست روابط مضبوط بنانے کا موقع فراہم کیا، لیکن عوام یا معیشت کے لیے اس کے عملی فوائد اب تک سامنے نہیں آ سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک USD1 کے استعمال، سرمایہ کاری، مالیاتی شمولیت یا ترسیلات زر میں بہتری کے واضح نتائج سامنے نہیں آتے، اس معاہدے کو ایک علامتی اور سیاسی اقدام ہی تصور کیا جائے گا، جس کے اقتصادی ثمرات ابھی تک غیر واضح ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

شیرانی بس حادثہ، 30 افراد جاں بحق

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر مسافر کوچ گہری کھائی میں گرنے سے کم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے