جمعہ , جولائی 3 2026

پاسکو کی بندش اور پیکج کی منظوری

درآمدی پالیسی میں ترمیم کی منظوری 

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں پاسکو کی تنظیمِ نو اور بندش، درآمدی پالیسی میں اصلاحات اور اعلیٰ تعلیم کے مالیاتی معاملات سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سمری پر 8 ہزار 197.989 میٹرک ٹن سیلاب سے متاثرہ گندم کی اوپن اور شفاف مسابقتی بولی کے ذریعے نیلامی کی منظوری دی۔ اعلامیے کے مطابق نیلامی کا عمل تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن سے مشروط ہوگا تاکہ مالی نقصانات کم کیے جا سکیں، خراب گندم کو شفاف طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکے اور پاسکو کی تنظیمِ نو اور مرحلہ وار بندش کے عمل میں سہولت ملے۔

کمیٹی نے پاسکو کے ملازمین کے لیے 4 ارب 18 کروڑ 80 لاکھ روپے کے سیورنس پیکج کی بھی منظوری دی۔ اس رقم سے اہل ملازمین کو معاوضے اور ریٹائرمنٹ سمیت دیگر واجبات ادا کیے جائیں گے تاکہ ادارے کی بندش کا عمل منظم انداز میں مکمل کیا جا سکے۔

اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے مالیاتی استحکام اور گورننس پلان پر بھی غور کیا گیا۔ ای سی سی نے یونیورسٹی کو ہدایت کی کہ وہ آزاد مالیاتی ماہرین کی خدمات حاصل کرے تاکہ ایک جامع، قابلِ عمل اور حقیقت پسندانہ مالیاتی منصوبہ تیار کیا جا سکے، جس سے یونیورسٹی کی طویل المدتی مالی پائیداری اور تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔

ای سی سی نے وزارت تجارت کی سمری پر امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی بھی منظوری دی، جس کے تحت جبری مشقت (Forced Labour) کی تعریف کو بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے فورسڈ لیبر کنونشن 1930 (کنونشن نمبر 29) کے مطابق شامل کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کے مطابق اس ترمیم سے پاکستان کے درآمدی قوانین کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنانے، عالمی لیبر معاہدوں پر عملدرآمد کو مضبوط کرنے اور ملکی تجارتی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مالی سال 2025-26 میں تجارتی خسارہ 39.47 ارب ڈالر

ایک سال میں 21.6 فیصد اضافہ پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 کے دوران …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے