
پاکستان کے معروف لوک گلوکار عطااللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی فنی زندگی کے آغاز، خاندانی مخالفت، جدوجہد اور ذاتی زندگی کے کئی یادگار واقعات ایک خصوصی انٹرویو میں بیان کیے۔
عطااللہ عیسیٰ خیلوی نے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے گانے کا بے حد شوق تھا۔ سکول میں قومی ترانے، علامہ اقبال کا کلام اور نعت پڑھنے کی ذمہ داری اکثر انہیں سونپی جاتی تھی، تاہم فن موسیقی سے وابستگی پر خاندان اور برادری کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ہائی سکول کے دوران ایک استاد نے انہیں گانے سے منع کیا، لیکن انہوں نے اپنے شوق کو ترک کرنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے بقول، گانے کی وجہ سے والد کی جانب سے انہیں کئی مرتبہ سخت سزا بھی دی گئی۔
معروف گلوکار نے بتایا کہ ایک روز ان کے والد نے دوستوں کے ساتھ موجود موسیقی کا سامان توڑ دیا، جس کے بعد انہوں نے 1970 میں گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور کراچی پہنچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دنوں میں مہاجر کیمپ میں ایک روپے یومیہ کرائے پر کمرہ لیا، جہاں تین دوست زمین پر سو کر رات گزارتے تھے۔ 1971 کی جنگ کے دوران انہوں نے رضاکارانہ طور پر خندقیں کھودنے کے کام میں بھی حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں لاہور منتقل ہو کر ہوٹل میں ملازمت کی، جہاں موسیقی سن کر اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کی۔ اس دوران انہوں نے ٹرک ڈرائیور، ٹیکسی ڈرائیور اور ویٹر سمیت مختلف پیشوں سے بھی وابستہ رہے تاکہ اپنے خواب کو زندہ رکھ سکیں۔
اپنے فنی سفر پر بات کرتے ہوئے عطااللہ عیسیٰ خیلوی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسا کلام گایا جو عام انسان کے جذبات، محبت، جدائی اور درد کی عکاسی کرتا ہو۔ ان کے مقبول گیت “چاند کتھے گزر رہی ہے” اور “دل لگایا تھا دل لگی کے لیے” سمیت متعدد نغموں نے پاکستان کے علاوہ برصغیر بھر میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
ذاتی زندگی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ان کی تین شادیاں ہوئیں اور ان کی شریک حیات مختلف زبانوں اور صوبوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے مطابق مختلف ثقافتی پس منظر کے باوجود گھریلو توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ہے جبکہ بیٹی ہالی ووڈ میں کام کر رہی ہے۔
انٹرویو کے دوران اپنی والدہ کے انتقال کا ذکر کرتے ہوئے عطااللہ عیسیٰ خیلوی جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ والدہ کی وفات ان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ لمحہ تھا، جبکہ پہلے بیٹے کی پیدائش کو انہوں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی قرار دیا۔
انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا کہ ایک مرتبہ رات کے وقت چند پولیس اہلکاروں نے ان سے لفٹ مانگی۔ گاڑی میں ان کا اپنا گانا چل رہا تھا، جس پر ایک اہلکار نے گانے کو برا بھلا کہا، لیکن بعد میں جب اسے معلوم ہوا کہ گاڑی چلانے والا شخص خود عطااللہ عیسیٰ خیلوی ہیں تو اس نے معذرت کر لی۔
انٹرویو کے اختتام پر عطااللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنے مداحوں سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ آج بھی نئی نسل سمیت چوتھی نسل ان کے گیت اسی محبت سے سنتی ہے، جو ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔
UrduLead UrduLead