Related Articles

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر مسافر کوچ گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 30 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے، امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر واقع دانہ سر کے مقام پر کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر کوچ گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 30 افراد جاں بحق اور 10 افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ امدادی کارروائیاں دشوار گزار پہاڑی علاقے میں تاحال جاری ہیں۔
بس انتظامیہ کے مطابق کوچ میں ڈرائیور سمیت 36 افراد سوار تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلع شیرانی کی انتظامیہ، ریسکیو 1122، فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ خیبر پختونخوا سے بھی ریسکیو ٹیموں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ نے بتایا کہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں نکالنے اور منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
حادثے کے بعد ضلع شیرانی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تاکہ زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گہری کھائی اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باعث ریسکیو آپریشن کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم تمام متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ابتدائی طور پر حادثے کی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ حادثہ تیز رفتاری، فنی خرابی یا کسی اور وجہ سے پیش آیا۔
پاکستان میں پہاڑی شاہراہوں پر ٹریفک حادثات اکثر خراب سڑکوں، دشوار گزار راستوں، گاڑیوں کی ناقص دیکھ بھال اور تیز رفتاری کے باعث پیش آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الصوبائی شاہراہوں پر حفاظتی اقدامات، گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس اور ٹریفک قوانین پر مؤثر عمل درآمد ایسے المناک حادثات کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے۔
UrduLead UrduLead