
ملک بھر میں مون سون بارشوں کے پہلے طاقتور اسپیل نے تباہی مچا دی، جہاں مختلف حادثات میں کم از کم 9 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں شدید بارش، آندھی اور فلیش فلڈ کے باعث گھروں، دیواروں اور دیگر ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا۔
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ کے دوران مختلف حادثات میں ایک خاتون اور دو بچوں سمیت متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق تیز بارشوں، آندھی اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 6 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق افراد میں دو مرد، ایک خاتون اور تین بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں سات مرد، ایک خاتون اور 11 بچے شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر، دیر لوئر، دیر اپر، مردان، شانگلہ، باجوڑ اور لوئر چترال میں پیش آنے والے مختلف واقعات کے دوران 38 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے دو مکمل جبکہ 36 گھروں کو جزوی نقصان ہوا۔
پنجاب کے ضلع اٹک میں شدید بارش کے دوران مکان اور دیوار گرنے سے تین افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ بلوچستان کے ضلع ژوب میں بارش کے باعث مکانات منہدم ہونے سے ایک خاتون اور بچوں سمیت تین افراد زندگی کی بازی ہار گئے اور کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے۔
ادھر دریائے سوات میں جھیل سیف اللہ کے مقام پر سیاحوں سے بھری کشتی الٹنے کا افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا، جس میں آٹھ افراد ڈوب گئے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک چھ افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ ایک 17 سالہ لڑکی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور، اسلام آباد، کراچی، گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبرپختونخوا میں آئندہ بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کا موجودہ سلسلہ مزید دو سے تین روز تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے دوران شہریوں کو نشیبی علاقوں، ندی نالوں اور پہاڑی مقامات پر احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
UrduLead UrduLead