جمعرات , فروری 12 2026

وزیر توانائی اویس لغاری بھی نیٹ میٹرنگ صارف

ان کی اپنی رہائش گاہ پر 11 کلوواٹ کا سولر سسٹم نصب ہے

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی پر ازسرِنو غور کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کے تمام صارفین کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کی اپنی رہائش گاہ پر 11 کلوواٹ کا سولر سسٹم نصب ہے اور وہ خود بھی نیٹ میٹرنگ صارف ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ اس نظام کے بعض پہلوؤں کو غیر متوازن قرار دیتے ہیں۔

سینیٹ اجلاس میں نیٹ میٹرنگ سے متعلق قرارداد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ توانائی نے بتایا کہ اگر کوئی صارف 5 روپے 50 پیسے یا 6 روپے فی یونٹ لاگت سے بجلی پیدا کر کے اسے 26 یا 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے قومی گرڈ کو فروخت کرے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ باقی 3 کروڑ 45 لاکھ صارفین کے ساتھ انصاف ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایسے ماڈل پر غور کرنا چاہیے جو ایک طرف قابلِ تجدید توانائی کی حوصلہ افزائی کرے اور دوسری جانب عمومی صارفین پر اضافی بوجھ نہ ڈالے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت سولر توانائی کی مخالف نہیں بلکہ اس کے فروغ کی حامی ہے، کیونکہ پاکستان کو مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ پالیسی کے نتیجے میں گرڈ سے منسلک عام صارفین پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے، کیونکہ تقسیم کار کمپنیوں کے فکسڈ اخراجات بدستور برقرار رہتے ہیں۔

اویس لغاری کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث بجلی کی خریداری اور فروخت کے نرخوں میں فرق ایک اہم پالیسی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس فرق کو مناسب انداز میں ایڈریس نہ کیا گیا تو بجلی کے نرخوں میں عدم توازن پیدا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایسا حل تلاش کرے گی جو شمسی توانائی کے فروغ، توانائی کے شعبے کے استحکام اور تمام صارفین کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی سازی کا بنیادی اصول یہی ہونا چاہیے کہ کسی ایک طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے دوسرے طبقے پر غیر متناسب بوجھ نہ ڈالا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پر جاری بحث آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، کیونکہ ملک میں سولرائزیشن کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پی ایس ایل کا پہلا پلیئرز آکشن آج لاہور میں ہوگا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن کے لیے تاریخ ساز پلیئرز آکشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے