منگل , جولائی 14 2026

تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت چار فیصد سے زائد بڑھ گئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ستمبر کی ترسیل کے لیے برینٹ کروڈ کی قیمت 79.17 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 22 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی افواج نے ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملے کیے اور تہران نے خطے میں اپنی جوابی کارروائیاں مزید تیز کر دیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے درجنوں حملے کیے گئے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی فورسز نے قبرص کے پرچم بردار ایک کارگو جہاز پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد یہ کارروائیاں کی گئیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکہ کے حملوں کے جواب میں متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ایرانی حکام نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز اگر ایران کی مقررہ سمندری گزرگاہ استعمال نہیں کریں گے تو انہیں محفوظ گزرنے کی ضمانت حاصل نہیں ہوگی۔

تازہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ میری ٹائم انٹیلی جنس پلیٹ فارم ونڈورڈ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد معمول کے مقابلے میں کافی کم رہی۔

آبنائے ہرمز سے امن کے دور میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی تجارت ہوتی ہے، اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت آئندہ چند ہفتوں تک 70 ڈالر کی بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہے، تاہم عالمی طلب، اوپیک پلس کی پیداوار اور خطے کی سکیورٹی صورتحال قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گی۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عالمی اسٹاک مارکیٹوں پر بھی نظر آئے، جہاں جاپان کے نکئی 225 انڈیکس، جنوبی کوریا کے کوسپی اور ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی مندی ریکارڈ کی گئی۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور درآمدی ممالک پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بارشوں، شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک کے مختلف علاقوں میں شدید مون سون …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے