اتوار , جولائی 12 2026

ورزش ترک نہ کریں، محفوظ طریقہ اختیار کریں

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مون سون کے موسم میں باقاعدہ ورزش مدافعتی نظام مضبوط بنانے اور جسمانی و ذہنی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، تاہم انڈور ورزش کو ترجیح دی جائے اور بیرونی سرگرمیوں میں احتیاط برتی جائے۔

مون سون کے دوران جہاں بارشیں اور مرطوب موسم روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں، وہیں صحت کے ماہرین نے شہریوں کو ورزش کا معمول برقرار رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق اس موسم میں جسمانی سرگرمی ترک کرنے کے بجائے احتیاط کے ساتھ ورزش جاری رکھنا صحت کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے، ذہنی دباؤ کم کرتی ہے اور مون سون کے دوران پیدا ہونے والی سستی اور اداسی سے بھی بچاتی ہے۔ تاہم بارش، پھسلن اور زیادہ نمی کے باعث کھلے مقامات پر ورزش خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بارش کے موسم میں گیلی اور پھسلن والی سڑکوں پر واک یا جاگنگ کے دوران گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ پانی جمع ہونے والی جگہوں سے لیپٹوسپائروسس، ڈینگی اور دیگر انفیکشنز لاحق ہونے کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ نمی کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری اور جسم میں پانی کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ مون سون کے دوران گھر کے اندر یوگا، اسٹریچنگ، اسکواٹس، پلانکس، برپیز، جمپنگ روپ اور دیگر ہوم ورک آؤٹس کو ترجیح دی جائے۔ اگر کسی وجہ سے باہر ورزش کرنا ضروری ہو تو اچھی گرفت والے جوتے، واٹر پروف لباس استعمال کیا جائے اور صرف خشک اور محفوظ مقامات کا انتخاب کیا جائے۔

ماہرین نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ورزش کے بعد گیلے کپڑے فوری تبدیل کیے جائیں، صاف پانی کا استعمال کیا جائے، ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے اور متوازن غذا کے ذریعے قوتِ مدافعت کو بہتر بنایا جائے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید بارش، آندھی، طوفان یا بجلی چمکنے کے دوران کسی بھی صورت میں بیرونی ورزش سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین نے شہریوں کو پیغام دیا ہے کہ مون سون کے موسم میں ورزش کو ترک کرنے کے بجائے حالات کے مطابق اپنے معمولات میں تبدیلی لائیں تاکہ صحت مند اور فعال زندگی برقرار رکھی جا سکے۔ ان کے مطابق احتیاط کے ساتھ کی جانے والی ورزش نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی تندرستی کے لیے بھی انتہائی فائدہ مند ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ارجنٹینا، انگلینڈ ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنلز کے اختتام پر ارجنٹائن اور انگلینڈ نے اپنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے