
سروس ایریا این او سی تنازع پر نئے افسران تعینات
کئی برس سے تاخیر اور تنازعات کا شکار راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔ مرکزی شاہراہ کی تعمیر مکمل ہونے کے باوجود سروس ایریا کے این او سی پر پیدا ہونے والے نئے تنازع نے 14 اگست کو مجوزہ افتتاح پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق رنگ روڈ منصوبہ ماضی میں بھی ڈیزائن اور روٹ میں تبدیلیوں کے باعث شدید تنازع کا شکار رہا، جس کے نتیجے میں سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں منصوبے پر کام روک دیا گیا تھا اور متعدد انتظامی افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔
بعد ازاں پنجاب حکومت نے منصوبے کی تکمیل کے لیے متعدد نئی ڈیڈ لائنز مقرر کیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے دورۂ منصوبہ کے بعد پہلے 30 دسمبر 2025، پھر 30 مارچ، 30 مئی، 15 جون اور بعد ازاں 18 سے 22 جون کے درمیان افتتاح اور ٹریفک کے لیے کھولنے کے اہداف مقرر کیے گئے، تاہم ان میں سے کوئی بھی مکمل نہ ہو سکا۔
بعد ازاں 14 اگست کو منصوبے کے افتتاح کی نئی تاریخ دی گئی۔ اس دوران بانٹھ انٹرچینج سے موٹروے تک مرکزی روٹ کی تعمیر مکمل کر لی گئی، تاہم تھلیاں انٹرچینج، آٹھ ٹول پلازوں اور 16 ٹول بوتھوں پر کام تاحال جاری ہے۔
دوسری جانب 102 کنال 14 مرلہ پر مشتمل مجوزہ سروس ایریا کے لیے جاری کیے گئے این او سی پر نیا قانونی تنازع سامنے آنے کے بعد منصوبہ ایک مرتبہ پھر مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کے این او سی برقرار رکھنے کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے آئندہ سماعت 16 جولائی مقرر کر دی ہے۔
اس تنازع کے بعد انتظامی سطح پر بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سابق کمشنر انجینئر عبدالعامر خٹک، ڈپٹی کمشنر وقار حسن چیمہ، سابق ڈی جی آر ڈی اے اور موجودہ ڈی جی آباد کنزہ مرتضیٰ سمیت متعدد افسران کو عہدوں سے ہٹا کر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
حکومت نے سلمان غنی کو نیا کمشنر، ندیم ناصر کو ڈپٹی کمشنر جبکہ راؤ عاطف رضا کو آباد ڈیپارٹمنٹ کا نیا ڈائریکٹر جنرل مقرر کر دیا ہے، جنہوں نے اپنے عہدوں کا چارج سنبھال لیا ہے۔
راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ پنجاب کے اہم ترین انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم مسلسل تاخیر، انتظامی تبدیلیوں اور قانونی تنازعات نے اس کی بروقت تکمیل اور افتتاح کو ایک مرتبہ پھر غیر یقینی بنا دیا ہے۔
UrduLead UrduLead