
47 ارب روپے لاگت سے تعمیر ہونے والا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ جولائی کے پہلے ہفتے میں مکمل ہو جائے گا، جبکہ 38.3 کلومیٹر طویل شاہراہ پر اسفالٹ بچھانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔
ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر اشفاق سلہری کے مطابق منصوبے کا تقریباً تمام تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور جولائی کے پہلے ہفتے میں پنجاب حکومت کو باضابطہ طور پر تکمیل کی اطلاع دے دی جائے گی۔ اس کے بعد صوبائی حکومت افتتاح کی تاریخ کا اعلان کرے گی اور شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت گرین بیلٹس، سائن بورڈز، فینسنگ، لین مارکنگ اور نکاسی آب کے بعض معمولی کام جاری ہیں۔ شاہراہ پر اسٹریٹ لائٹس اور لیمپ پوسٹس کی تنصیب بھی جاری ہے، جسے آئندہ ایک ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔ بلند پشتوں پر خصوصی گھاس بھی لگائی جا رہی ہے تاکہ مٹی کے کٹاؤ کو روکا جا سکے۔
اشفاق سلہری کے مطابق رنگ روڈ پر روزانہ 30 ہزار سے زائد گاڑیوں کی آمدورفت متوقع ہے، جبکہ شاہراہ پر رفتار کی حد 120 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور رنگ روڈ کی طرز پر اس منصوبے پر بھی ٹول ٹیکس کا نظام نافذ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ رنگ روڈ کھلنے کے بعد جی ٹی روڈ سے موٹروے چوک تک عمومی ٹریفک کا تقریباً 25 سے 30 فیصد جبکہ مال بردار ٹریفک کا تقریباً 70 فیصد اس شاہراہ پر منتقل ہو جائے گا، جس سے راولپنڈی اور اسلام آباد کی اندرونی شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تھلیاں انٹرچینج پر تعمیراتی کام رنگ روڈ کی تکمیل کے بعد آئندہ ماہ شروع ہونے کا امکان ہے، جسے تقریباً تین ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت چار لینز پر مشتمل انٹرچینج اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب موٹروے پر موجود پل کو بھی توسیع دی جائے گی۔
38.3 کلومیٹر طویل رنگ روڈ بانٹھ (جی ٹی روڈ) سے تھلیاں (موٹروے) تک تعمیر کی گئی ہے، جس پر بانٹھ، میرا موہڑہ، خاصالہ، کولیاں پر اور تھلیاں کے مقامات پر پانچ انٹرچینجز قائم کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے اطراف صنعتی زون بھی قائم کیا جائے گا۔
راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RDA) اس منصوبے کی عملدرآمد ایجنسی جبکہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) تعمیراتی ٹھیکیدار ہے۔
یہ منصوبہ ابتدا میں پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں 68 کلومیٹر طویل تجویز کیا گیا تھا، تاہم مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد اس پر کام روک دیا گیا۔ بعد ازاں نئی منظوری کے تحت اس کی لمبائی 38.3 کلومیٹر کر دی گئی۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے مارچ 2022 میں اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا، جبکہ بعد میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے بعد منصوبہ دوبارہ شروع کیا اور وزیراعظم شہباز شریف نے 8 اگست 2023 کو راوت میں اس کا دوبارہ سنگ بنیاد رکھا۔
UrduLead UrduLead