بدھ , اگست 12 2026

پٹرول پمپ بندش، ٹرانسپورٹرز ہڑتال سے ایندھن بحران

–پیٹرولیم ڈیلرز نے 15 اگست سے لامحدود بندش کا اعلان کر دیا، مال بردار ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال جاری

پاکستان میں ایندھن کا بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے کیونکہ پیٹرولیم ڈیلرز نے 15 اگست سے ملک بھر میں پٹرول پمپس کی لامحدود بندش کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ مال بردار ٹرانسپورٹرز کی وہیل جام ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے۔ ان دونوں احتجاجی تحریکوں کے مل جانے سے ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی اور اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل مفلوج ہونے کا خدشہ ہے۔

ڈیلرز کا حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (PPDA) کے چیئرمین ملک خدابخش نے منگل کو پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پورے نہ کیے تو 15 اگست کی صبح 6 بجے سے ملک بھر کے پٹرول پمپ بند کر دیے جائیں گے۔

چیئرمین نے کہا کہ “ایسوسی ایشن نے حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو ڈیلرز پٹرول پمپس کا آپریشن جاری نہیں رکھ سکیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ڈیلرز پٹرول پر 8 فیصد منافع کا مطالبہ کر رہے ہیں اور “ہمارا صبر ختم ہو چکا ہے۔”

ملک خدابخش نے بتایا کہ ایسوسی ایشن اپنے 14,000 اراکین کے دباؤ میں ہے اور حکومت کو ان کے مطالبات پورے کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا گیا تھا مگر یہ مدت ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہم نے 15 دن قبل اخلاقی بنیادوں پر ہڑتال واپس لے لی تھی کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ حکومت سنجیدہ ہے،” مگر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس دوران کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔

کلیدی مطالبات

ڈیلرز کئی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں:

  • منافع میں اضافہ: موجودہ کمیشن کا نظام ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے، ڈیلرز کو بڑھتی ہوئی لاگت کے باوجود فی لیٹر صرف 8 روپے کمیشن مل رہا ہے۔

  • روزانہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار ختم کیا جائے: ڈیلرز نے حکومت کے روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نظرثانی کے فیصلے کو شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ورکنگ کیپیٹل میں سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

  • پہلے سے طے شدہ فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے: ڈیلرز نے حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان طے پانے والے فیصلوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین انور کمال نے بتایا کہ حکومت نے پچھلے دو ہفتوں کے دوران ایسوسی ایشن سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی انہیں ان کے مطالبات پر کسی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ہے۔

ماضی کی یقین دہانیاں پوری نہ ہوئیں

واضح رہے کہ 22 جولائی کو آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن (APPPOA) نے پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد دو ہفتوں کے لیے ملک گیر بندش ملتوی کر دی تھی۔ وزیر موصوف نے ڈیلرز کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے طویل عرصے سے زیر التوا مسائل حل کیے جائیں گے۔

تاہم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے وعدوں پر پوری نہیں اتری۔ 7 اگست کو پیٹرولیم وزیر کو بھیجے گئے خط میں ایسوسی ایشن نے روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں کے تعین کی پالیسی کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

مال بردار ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نے مشکلات بڑھائیں

پٹرولیم ڈیلرز کے اعلان کے ساتھ ہی آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کی وہیل جام ہڑتال بھی جاری ہے، جو منگل کو اپنے چوتھے دن میں داخل ہو گئی۔

اتوار کو حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے، جس کے بعد الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے اعلان کیا کہ ہڑتال جاری رہے گی۔

اعوان نے کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومتوں کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کے باوجود “تعطل برقرار ہے اور ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ “زبانی یقین دہانیاں کافی نہیں ہیں، ہمیں تحریری اور قابلِ عمل وعدے چاہیے۔”

ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات یہ ہیں:

  • پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی

  • روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار ختم کیا جائے

  • ٹرانسپورٹ انڈسٹری پر 7 فیصد وِد ہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جائے

سپلائی چین پر گہرے اثرات

ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نے پہلے ہی ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کو متاثر کر دیا ہے۔ پورٹ قاسم پر بھی ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں جس سے بندرگاہ کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔

اگر پٹرول پمپ بند ہو گئے تو یہ صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔ ماہرین کے مطابق طویل بندش سے عوامی اور نجی ٹرانسپورٹ بری طرح متاثر ہوگی اور ایندھن پر انحصار کرنے والے شعبوں کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوں گی۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پٹرول پمپ بندش اور ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال مل کر معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

ٹوئٹر پر متعدد صارفین نے شہریوں سے ایندھن ذخیرہ نہ کرنے کی اپیل کی ہے، جبکہ کچھ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیلرز اور ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے حل کرے۔

ایک صارف نے لکھا کہ “ہر طرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، مگر ڈیلرز کا منافع صرف 8 روپے فی لیٹر ہے – یہ ناانصافی ہے۔” جبکہ دوسرے صارف نے کہا کہ “حکومت کو فوری طور پر دونوں جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کر کے بحران کو حل کرنا چاہیے۔”

حکومتی ردعمل اور اگلی ممکنہ پیش رفت

وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی تاہم کوئی معاہدہ طے نہ ہو سکا۔ حکومت کی جانب سے ابھی تک ڈیلرز کے 72 گھنٹے کے الٹی میٹم پر کوئی باقاعدہ جواب نہیں آیا ہے۔

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے واضح کر دیا ہے کہ “جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے، پٹرول پمپس کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔” اس سے لاکھوں مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری افراد کے لیے ایندھن کی دستیابی پر شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ پاکستان مکمل ایندھن کے بحران کا سامنا کرتا ہے یا حکومت آخری لمحات میں کوئی معاہدہ کر کے بندش کو ٹالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر یہ بحران طویل ہوا تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اور اضافہ ہو گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

نیب نے ستارہ انرجی سکینڈل اپنے ہاتھ میں لے لیا

ایف آئی اے کو ریکارڈ حوالے کرنے کا حکم قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایم/ایس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے