Related Articles

معروف شاعر، ادیب اور کالم نگار وسیم شاہ نے ٹی وی پروگرام میں اپنی شاندار شرکت سے ناظرین کو شاعری، مزاح اور سماجی شعور کا خوبصورت امتزاج پیش کیا، جسے شائقین نے بے حد سراہا۔
وسیم شاہ نے اپنے منفرد انداز میں شاعری پیش کرتے ہوئے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ ان کا شعر، “میں ایک جست میں صدیوں کے پار جاتا ہوں، کسے مجال ہے میرے ساتھ دو قدم بھی چلے”، محفل کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
گفتگو کے دوران وسیم شاہ نے کہا کہ شاعری صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور شعور بیدار کرنے کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادب انسان کو سوچنے، سوال اٹھانے اور معاشرتی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
پروگرام میں کلاسیکی اور جدید اردو شاعری پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وسیم شاہ نے میر تقی میر، مرزا غالب، فیض احمد فیض، حبیب جالب اور احمد فراز سمیت اردو ادب کے عظیم شعرا کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور نوجوان نسل کو مطالعے کی عادت اپنانے پر زور دیا۔
اس موقع پر انہوں نے مہنگائی، نئے ٹیکسوں اور عوامی مسائل پر مبنی اپنی طنزیہ نظم بھی سنائی، جس نے حاضرین کو ہنسنے کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات پر غور کرنے پر بھی مجبور کر دیا۔ نظم کے اختتام پر شرکاء نے بھرپور تالیاں بجا کر ان کی داد دی۔
میزبانوں نے وسیم شاہ سے ان کے پسندیدہ شعرا، نغمہ نگاروں، ادیبوں اور گلوکاروں کے بارے میں بھی سوالات کیے، جن کے جواب میں انہوں نے گلزار، مجروح سلطان پوری، انور مسعود اور دیگر ممتاز ادبی شخصیات کا ذکر کیا۔
پروگرام کے اختتام پر وسیم شاہ نے فیض احمد فیض کے مشہور کلام کو اپنے منفرد انداز میں پیش کیا، جس نے ماحول کو ادبی رنگ میں رنگ دیا۔ انہوں نے اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ شاعر ہمیشہ معاشرے اور عوام کے جذبات کا ترجمان ہوتا ہے اور ادب کو سماجی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بننا چاہیے۔
UrduLead UrduLead