بدھ , جولائی 15 2026

جولائی کے لیے ایک اور ایل این جی کارگو ٹینڈر جاری

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک اور ایل این جی کارگو کی خریداری کے لیے بین الاقوامی سپلائرز سے بولیاں طلب کر لی ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب، شدید گرمی کے باعث ممکنہ لوڈشیڈنگ سے بچاؤ اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کی جانب سے جاری کیے گئے ٹینڈر کے مطابق کمپنی تقریباً 140 ہزار مکعب میٹر (±5 فیصد) ایل این جی کارگو کی فراہمی چاہتی ہے، جسے ڈیلیورڈ ایکس شپ (DES) کی بنیاد پر کراچی کے پورٹ قاسم پر پہنچایا جائے گا۔

ٹینڈر نمبر PLL/IMP/LNGT75 کے مطابق کارگو کی فراہمی کی مقررہ مدت 21 سے 22 جولائی 2026 رکھی گئی ہے۔

حکام کے مطابق اضافی ایل این جی کارگو کی خریداری کا مقصد ملک میں بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا، شدید گرمی کے دوران بجلی کی قلت پر قابو پانا اور خلیجی خطے میں کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت سے نمٹنا ہے۔

پی ایل ایل نے بین الاقوامی شہرت یافتہ سپلائرز کو ٹینڈر میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے۔ دلچسپی رکھنے والی کمپنیاں اسلام آباد میں واقع پیٹرولیم ہاؤس میں پی ایل ایل کے دفتر سے یا کمپنی کے سرکاری ای میل ایڈریس کے ذریعے ٹینڈر دستاویزات حاصل کر سکتی ہیں۔ دستاویزات 15 جولائی 2026 تک دستیاب رہیں گی۔

بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جولائی دوپہر 2 بجے (پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم) مقرر کی گئی ہے، جبکہ مالیاتی بولیاں اسی روز دوپہر 2:30 بجے عوامی طور پر کھولی جائیں گی۔ خریداری کا یہ عمل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے قواعد کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔

پی ایل ایل نے واضح کیا ہے کہ ٹینڈر کی تفصیلات پی پی آر اے اور کمپنی کی سرکاری ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

کمپنی نے یہ حق بھی محفوظ رکھا ہے کہ وہ پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کے رول 33 کے تحت کسی بھی مرحلے پر تمام بولیاں مسترد کر سکتی ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان کی مقامی گیس پیداوار میں مسلسل کمی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ موجودہ ٹینڈر حکومت کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے گرمیوں کے دوران بجلی کی پیداوار برقرار رکھنے اور ممکنہ ایندھن کی قلت سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

گرمی دانوں سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

مون سون کے موسم میں بڑھتی ہوئی گرمی اور نمی کے باعث ملک بھر میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے