
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی، جس میں اقتصادی اصلاحات، دوطرفہ تعاون اور امریکی سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے 10 ارب ڈالر کی امریکی معاونت کی درخواست کی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے منگل کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے، دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ اور امریکی سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی دوران رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی کی درخواست کی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میکرو اکنامک استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھ کر پائیدار اور برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کی جانب گامزن ہے، تاہم علاقائی جغرافیائی و سیاسی صورتحال اب بھی ملکی معیشت کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں تک بہتر رسائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے کے لیے امریکی تعاون میں اضافے پر زور دیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، امریکی سرمایہ کاری کے فروغ اور اسٹریٹجک منصوبوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
رائٹرز نے مذاکرات سے آگاہ ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی “بائی لیٹرل ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی” کی درخواست کی ہے۔ مجوزہ سہولت، جس کی مدت پانچ سال تک ہو سکتی ہے، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے، روپے پر دباؤ کم کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پر انحصار میں کمی لانے میں مدد دے سکتی ہے۔ امریکی وزارت خزانہ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
رائٹرز کے مطابق یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگرام کے تحت حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو مزید مضبوط بنانے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور دیگر اقتصادی اقدامات پر عمل پیرا ہے تاکہ معیشت کو دیرپا بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے۔
وزارت خزانہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان میں طویل المدتی امریکی سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات پر مبنی پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے جاری اصلاحاتی عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
UrduLead UrduLead