
وزیرِ اعظم شہباز شریف چند گھنٹوں کے سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گئے جہاں وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور پاک-سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر مختصر سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقات میں خطے میں جاری کشیدگی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

حکومتی بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات بھی زیرِ غور آئیں گے۔ دونوں رہنما باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور جاری اقتصادی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں پر پیش رفت چاہتا ہے، جن میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر کے شعبے شامل ہیں۔
سعودی عرب پاکستان کا قریبی اتحادی اور بڑا اقتصادی شراکت دار رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ برسوں میں سعودی عرب نے پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے دباؤ کے دوران مالی معاونت، مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی اور ڈپازٹس کی صورت میں اربوں ڈالر کی سہولت فراہم کی۔ 2023 اور 2024 کے دوران بھی سعودی حکومت نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھنے کیلئے مرکزی بینک میں اربوں ڈالر جمع کرائے، جو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بیرونی مالیاتی ضروریات پوری کرنے میں اہم رہے۔
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون بھی طویل عرصے سے جاری ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور فوجی تربیت کے شعبوں میں قریبی تعاون رکھتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطحی مشاورت کی ضرورت بڑھ گئی ہے، جس کے تناظر میں یہ ملاقات اہم سمجھی جا رہی ہے۔
اقتصادی حوالے سے بھی پاکستان سعودی سرمایہ کاری کو معیشت کے استحکام کیلئے اہم قرار دیتا ہے۔ حکومت کی جانب سے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کے بعد سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کو معدنیات، توانائی اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق جاری مذاکرات کا مقصد ان منصوبوں کو تیز کرنا اور طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کا یہ مختصر دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے جائزے، بیرونی مالی ضروریات اور خطے کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، اس لئے سعودی قیادت کے ساتھ مشاورت کو پاکستان کی خارجہ اور اقتصادی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاک-سعودی تعلقات آئندہ مہینوں میں معاشی استحکام کیلئے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
UrduLead UrduLead