
ادارہ شماریات کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی میں تیزی، پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑے اضافے سے حساس قیمت اشاریہ اوپر چلا گیا۔
پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب Pakistan Bureau of Statistics نے بتایا کہ 11 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران Sensitive Price Indicator میں 1.89 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات اور چند بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں تیزی رہی۔
ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 20.60 فیصد، ڈیزل میں 19.54 فیصد اور ایل پی جی میں 12.13 فیصد اضافہ ہوا، جس سے مجموعی مہنگائی پر نمایاں اثر پڑا۔ ماہرین کے مطابق حالیہ اضافے کا تعلق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے ہے۔
اشیائے خورونوش میں بھی محدود مگر قابل ذکر اضافہ دیکھا گیا۔ پیاز کی قیمت 9.63 فیصد بڑھی جبکہ آٹے کی قیمت میں 1.28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح کیلے، چکن، دال ماش، چنا، تازہ دودھ اور لکڑی کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا جس سے گھریلو اخراجات پر مزید دباؤ پڑا۔
حساس قیمت اشاریہ 51 بنیادی اشیا کی قیمتوں کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے جو ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے حاصل کی جاتی ہیں۔ جاری ہفتے کے دوران 14 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، 9 میں کمی جبکہ 28 کی قیمتیں مستحکم رہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کا دباؤ چند مخصوص شعبوں تک محدود رہا۔
دوسری جانب بعض سبزیوں کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ ٹماٹر کی قیمت 3.66 فیصد کم ہوئی جبکہ آلو 2.86 فیصد سستے ہوئے۔ اس کے علاوہ لہسن، مسور کی دال، آئرن چاول، سرسوں کا تیل اور چینی کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم یہ کمی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثر کو کم نہ کر سکی۔
سالانہ بنیاد پر حساس قیمت اشاریہ میں 6.44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو توانائی اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 30 فیصد جبکہ گیس چارجز میں 29.85 فیصد اضافہ ہوا، جو حالیہ مہینوں میں توانائی ٹیرف میں کی گئی ایڈجسٹمنٹ کا نتیجہ ہے۔
آٹے کی قیمت میں 27.75 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو زرعی لاگت، نقل و حمل کے اخراجات اور کرنسی کی قدر میں کمی سے منسلک بتایا جا رہا ہے۔ اسی طرح گائے کا گوشت، پاوڈر دودھ اور مٹن کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا جس سے خوراک کی مجموعی مہنگائی برقرار رہی۔
کچھ اشیا میں سالانہ بنیاد پر بڑی کمی بھی دیکھی گئی۔ آلو کی قیمت میں 50 فیصد سے زائد کمی ہوئی جبکہ چکن کی قیمت تقریباً 26 فیصد کم ہوئی، جس کی وجہ بہتر پیداوار اور سپلائی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ انڈوں کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق ہفتہ وار ایس پی آئی کے اعداد و شمار کو State Bank of Pakistan مانیٹری پالیسی فیصلوں میں اہم اشارے کے طور پر دیکھتا ہے، کیونکہ قلیل مدت میں مہنگائی کا رجحان زیادہ تر توانائی اور خوراک کی قیمتوں سے متاثر ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایندھن اور گیس کی قیمتوں میں ردوبدل، جو بین الاقوامی مالیاتی پروگرام کی شرائط سے منسلک ہے، آنے والے ہفتوں میں بھی مہنگائی کے حساس قیمت اشاریہ کو متاثر کرتا رہے گا، اور اسی وجہ سے Sensitive Price Indicator آئندہ ہفتوں میں بھی اتار چڑھاؤ کا شکار رہنے کا امکان ہے۔
UrduLead UrduLead