یوم القدس ریلی کے باعث ریڈ زون سیل، فیض آباد انٹرچینج بند، میٹرو بس سروس معطل، متعدد شاہراہوں پر کنٹینرز لگا کر ٹریفک محدود کر دی گئی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یوم القدس ریلی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں متعدد اہم شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے اور میٹرو بس سروس بھی جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق ریڈ زون اور اس کے اطراف کے علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق آبپارہ، سیونتھ ایونیو، ڈی چوک اور ایکسپریس چوک کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے جبکہ ریڈ زون میں داخلے کے بیشتر راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اقدامات کا مقصد ریلی کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق مرکزی امام بارگاہ اثناء عشری کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور وہاں بھی کنٹینرز لگا کر راستے محدود کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یوم القدس کے موقع پر ہر سال غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ ریلیوں میں شرکت کرتے ہیں۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ فیض آباد انٹرچینج کو بھی بند کر دیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ میٹرو حکام کے مطابق ریڈ زون اور فیض آباد کے اطراف سیکیورٹی بندشوں کے باعث سروس محدود کرنی پڑی تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے شہریوں کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس میں متبادل راستوں کے استعمال کی ہدایت کی گئی ہے۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ریڈ زون جانے کے لیے صرف مارگلہ روڈ کھلا رکھا گیا ہے جبکہ دیگر تمام داخلی راستے عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
ٹریفک پلان کے مطابق چاند تارہ فلائی اوور سری نگر ہائی وے سے سرینا چوک تک بند رہے گا جبکہ آبپارہ سے سہروردی روڈ آنے اور جانے کے لیے مکمل بندش ہو گی۔ اسی طرح راول ڈیم چوک سے کشمیر چوک تک کلب روڈ کی ایک سائیڈ بند رکھی جائے گی جبکہ پارک روڈ پر شہزاد ٹاؤن سے مشرف چوک تک سنگل سائیڈ ٹریفک چلائی جائے گی۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور جاری کردہ ٹریفک پلان پر عمل کریں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔ حکام کے مطابق سیکیورٹی اقدامات مذہبی ریلی اور احتجاج کے ممکنہ اعلان کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔
گزشتہ برسوں کے دوران بھی یوم القدس اور دیگر مذہبی اجتماعات کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں اسی نوعیت کے سیکیورٹی انتظامات کیے جاتے رہے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ریڈ زون میں سرکاری عمارتوں، سفارت خانوں اور حساس تنصیبات کی موجودگی کے باعث ایسے مواقع پر سخت کنٹرول ضروری سمجھا جاتا ہے جبکہ ٹریفک بندشوں اور میٹرو سروس کی معطلی کو بھی اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال معمول پر آنے کے بعد بند کیے گئے راستے مرحلہ وار کھول دیے جائیں گے جبکہ سیکیورٹی ہائی الرٹ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ریلی اور متعلقہ اجتماعات ختم نہیں ہو جاتے۔
UrduLead UrduLead