
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد کراچی میں احتجاج شدت اختیار کر گیا، امریکی قونصل خانے کے قریب فائرنگ سے سات افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کی غیر مصدقہ خبروں کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں اتوار کو شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانہ کراچی کی جانب مارچ کیا جہاں جھڑپوں اور فائرنگ کے نتیجے میں سات افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق مائی کولاچی روڈ کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ عینی شاہدین نے شدید فائرنگ اور بھگدڑ کی اطلاعات دیں۔ بعض مظاہرین نے قونصل خانے کے اطراف پتھراؤ کیا اور آگ بھی لگائی۔ حکام نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ گولیاں کس جانب سے چلیں۔
ابتدائی طور پر مظاہرین شہر کے اہم مقامات پر جمع ہوئے۔ نمائش چورنگی، عباس ٹاؤن اور ٹاور پر بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے نعرے بازی کی اور ٹریفک معطل ہو گئی۔ بعد ازاں ہجوم امریکی قونصل خانے کی جانب بڑھ گیا جہاں پہلے سے سخت سیکیورٹی انتظامات موجود تھے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ اضافی پولیس اور رینجرز کی نفری طلب کی گئی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ کئی سڑکوں پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے گئے۔
BREAKING:
— Reporter Today News (@reportertoday88) March 1, 2026
US Consulate in Karachi, Pakistan, is now under attack by protesters.#Iran #Israil #pakistan #usa pic.twitter.com/yHTjHhEOlH
انتظامیہ نے شہریوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی۔ حکام نے افواہوں سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی۔ تاحال ایرانی حکام کی جانب سے آیت اللہ علی خامنہ ای سے متعلق خبر کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔
کراچی ماضی میں بھی سفارتی تنصیبات کے قریب احتجاج کا سامنا کرتا رہا ہے۔ شہر ملک کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے اور قومی معیشت میں نمایاں حصہ رکھتا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق کراچی ملکی ٹیکس آمدن اور صنعتی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شہر کی آبادی دو کروڑ سے زائد ہے جس کے باعث ہنگامی حالات میں کنٹرول مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت پابندیوں کے باعث محدود رہی ہے۔ دوسری جانب امریکہ پاکستان کی بڑی برآمدی منڈیوں میں شامل ہے، خصوصاً ٹیکسٹائل شعبے میں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ خبروں سے عوامی ردعمل تیزی سے بھڑک سکتا ہے۔ ماضی میں بھی علاقائی کشیدگی کے دوران کراچی میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ حکومت نے حالیہ برسوں میں سفارتی تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت میزبان ملک پر غیر ملکی مشنز کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق سات افراد گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ بارہ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ایمبولینس سروسز کو جلاؤ گھیراؤ اور سڑکوں کی بندش کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں اور کئی دکانیں بند کر دی گئیں۔
وزارت داخلہ نے سفارتی مشنز کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ مزید نفری تعینات کر کے حساس مقامات کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں تاکہ فائرنگ کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کراچی میں طویل بدامنی سرمایہ کاری پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی نظم و ضبط کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایسے حالات میں استحکام کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
رات گئے تک سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات رہی۔ متاثرہ علاقوں میں صفائی کا عمل شروع کر دیا گیا۔ حکام نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای سے متعلق مصدقہ معلومات کا انتظار کیا جائے۔ کراچی میں پیش آنے والے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ خطے کی سیاسی پیش رفت کس طرح مقامی سطح پر فوری ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead