
سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت ایرانی سرکاری میڈیا نے باضابطہ طور پر تصدیق کردی ہے۔ وہ ہفتہ کو ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں اپنے دفتر میں شہید ہوئے۔
حکومت نے 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ شہادت کا بدلہ لیا جائے گا اور جو بھی حملہ آور ہے اسے سخت سزا دی جائے گی۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “ظلم کرنے والوں کو پتہ چل جائے گا کہ انقلابی کون ہیں”، اور دشمنوں کے اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خامنہ ای کی شہادت میں ان کے خاندان کے افراد بھی ہلاک ہوئے۔
بین الاقوامی پس منظر
یہ واقعہ امریکہ اور اسرائیل کی شدید فوجی کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آیا، جن میں تہران سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں حملے کیے گئے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی سوشل میڈیا پر خامنہ ای کی موت کی بات کی تھی، اور کہا کہ اس سے نئی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔
UrduLead UrduLead