ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی حکومت نے آئندہ ہفتے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے کمی کر دی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت کو برقرار رکھا گیا ہے۔
وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نئی ایکس ڈپو قیمتوں کا اطلاق 6 جون 2026 سے ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت 381.78 روپے فی لیٹر سے کم کرکے 377.78 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو 4 روپے فی لیٹر کا ریلیف ملے گا۔
دوسری جانب حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اسے 380.78 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھا ہے۔
حکومتی فیصلے کے تحت پیٹرول کی قیمت میں کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب عوام مہنگائی اور بڑھتے ہوئے سفری اخراجات کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ پیٹرول بنیادی طور پر موٹر سائیکلوں، نجی گاڑیوں اور چھوٹی تجارتی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں کمی سے لاکھوں صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کمی سے روزمرہ سفر کے اخراجات میں کچھ حد تک کمی آئے گی، جبکہ چھوٹے کاروبار بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے سے زرعی شعبے اور مال بردار ٹرانسپورٹ کے آپریشنل اخراجات میں استحکام برقرار رہے گا۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر، درآمدی لاگت، پیٹرولیم لیوی اور دیگر حکومتی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ حکومت وقتاً فوقتاً ان عوامل کی بنیاد پر قیمتوں میں ردوبدل کرتی ہے۔
تازہ فیصلے کو حکومت کی جانب سے عوام کو محدود ریلیف فراہم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھ کر مہنگائی پر مزید دباؤ سے بچنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، کیونکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا اثر اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کے اخراجات پر بھی پڑتا ہے۔
وزارتِ توانائی کے نوٹیفکیشن کے مطابق 6 جون 2026 سے نافذ العمل نئی قیمتیں درج ذیل ہوں گی:
- ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD): 380.78 روپے فی لیٹر (کوئی تبدیلی نہیں)
- موٹر اسپرٹ (پیٹرول): 377.78 روپے فی لیٹر (4 روپے فی لیٹر کمی)
نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ عام صارفین کو محدود مالی ریلیف ملے گا، جبکہ ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات موجودہ سطح پر برقرار رہیں گے۔
UrduLead UrduLead