
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں مختلف شعبوں کے لیے مجموعی طور پر 50 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (TSGs) اور پالیسی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام (SAP) کے تحت 7.026 ارب روپے کی منظوری دی، جس کا مقصد جاری ترقیاتی منصوبوں کو تسلسل فراہم کرنا اور لاگت میں اضافے سے بچاؤ ہے۔
دفاعی شعبے میں کمیٹی نے پاک بحریہ کے ہنگور منصوبے کے لیے 10.15 ارب روپے کی منظوری دی، جو RAFDP-2030 فریم ورک کا حصہ ہے۔
وزارت داخلہ سے متعلق متعدد سمریاں بھی منظور کی گئیں جن میں اسلام آباد امن مذاکرات کے سکیورٹی انتظامات کے لیے 692.9 ملین روپے، امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ ترالئی میں خودکش دھماکے کے متاثرین کے لیے 241 ملین روپے، پاکستان لینڈ پورٹس اتھارٹی کے لیے 528 ملین روپے، اور پاکستان کوسٹ گارڈز کے لیے فاسٹ پیٹرول بوٹس اور انفراسٹرکچر کی خریداری کے لیے 800 ملین روپے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیف سٹی اسلام آباد کی توسیع کے لیے 1.883 ارب روپے، نیکٹا کے لیے 150 ملین روپے اور ریکوڈک منصوبے سے متعلق سکیورٹی اخراجات کے لیے 413.9 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں اسلام آباد امن مذاکرات کے کامیاب انعقاد کو سراہا گیا۔
کمیٹی نے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے لیے جون 2026 کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 733 ملین روپے کی منظوری دی، جبکہ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) کے لیے گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں ٹیلی کام ٹاورز اور سائٹس کی تنصیب کے لیے 183.5 ملین روپے منظور کیے گئے۔
پارلیمانی امور کی وزارت کے لیے 119.9 ملین روپے بھی منظور کیے گئے تاکہ پارلیمانی سیکرٹریز کی نظرثانی شدہ تنخواہوں اور مراعات کی ادائیگی کی جا سکے۔
ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت کی سمری پر کراچی اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر منصوبوں اور خیبر پختونخوا کے لیے مجموعی طور پر 11.5 ارب روپے سے زائد رقوم پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔
ای سی سی نے پاکستان منٹ کی جدید کاری کے لیے 1.3 ارب روپے اور گلگت بلتستان حکومت کے لیے 4.377 ارب روپے کی منظوری بھی دی تاکہ جاری اخراجات اور ترجیحی منصوبوں کو سپورٹ کیا جا سکے۔
پالیسی فیصلوں میں وفاقی اداروں کے لیے بجٹ ہنوریم کی منظوری اور آئی پی او پاکستان کے مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینوں کی منظوری شامل ہے، جس میں 914.7 ملین روپے کے اخراجات اور 918 ملین روپے کی متوقع آمدن ظاہر کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں پاکستان اسٹیٹ آئل کے لیے 100 ارب روپے کی سنڈیکیٹڈ رننگ فنانس سہولت کی توسیع اور پیٹرولیم ریفائننگ پالیسی 2023 کے تحت سی اینرجیکو پاکستان لمیٹڈ کے ساتھ دیرینہ ادائیگیوں کے مسئلے کے حل کے لیے نظرثانی شدہ فریم ورک کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں مزید 29.9 ملین روپے رہائشی اخراجات اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں جامع مسجد کی توسیع و اپ گریڈیشن کے لیے 30 ملین روپے کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء، بشمول پیٹرولیم، منصوبہ بندی، تجارت، تعلیم، توانائی اور غذائی تحفظ کے وزراء کے علاوہ متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
UrduLead UrduLead