پی این ایس سی کی تنظیمِ نو سمیت اہم فیصلے

اسلام آباد میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مالیاتی ضروریات، ترقیاتی منصوبوں اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔
اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی، جس میں تعلیم، صحت، ریلوے، بحری امور اور سماجی تحفظ سمیت مختلف شعبوں کے لیے فنڈز اور اصلاحاتی اقدامات منظور کیے گئے۔
ای سی سی نے مجموعی طور پر 6 ارب روپے سے زائد کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (TSGs) کی منظوری دی۔ اجلاس میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی تنظیمِ نو اور 2026 تا 2030 کے لیے قیمتی پتھروں سے متعلق قومی پالیسی کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔ حکام کے مطابق ان فیصلوں کا مقصد معیشت میں بہتری، ادارہ جاتی کارکردگی اور برآمدات میں اضافہ ہے۔
تعلیم کے شعبے میں وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3,915.24 ملین روپے منظور کیے گئے۔ یہ فنڈز نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے ذریعے استعمال ہوں گے۔ اس منصوبے کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں دانش اسکولز کے قیام اور توسیع کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔
اجلاس میں وزیر اعظم آفس کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے 160 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔ یہ ذمہ داریاں پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے خاتمے کے بعد کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کو منتقل کی گئی ہیں۔ اسی طرح ایف سی خیبر پختونخوا نارتھ کے شاکس میں واقع اسپتال کے لیے 480 ملین روپے بھی منظور کیے گئے تاکہ سیکیورٹی اہلکاروں اور شہداء کے اہل خانہ کو طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
صحت کے شعبے میں قومی صحت پروگرام کے لیے 1.5 ارب روپے کی منظوری دی گئی، جو سابقہ صحت سہولت پروگرام کا نیا مرحلہ ہے۔ یہ اسکیم شہریوں کو مفت ہیلتھ انشورنس فراہم کرتی ہے اور بڑھتے ہوئے طبی اخراجات کے خلاف مالی تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔ حکام کے مطابق یہ پروگرام سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرے گا۔
ای سی سی نے کشمیر مہاجرین کے لیے ماہانہ وظیفہ 3,500 روپے سے بڑھا کر 6,000 روپے کرنے کی منظوری بھی دی، جو فروری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ اس کے لیے 578.838 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ مختص کی گئی ہے۔
ریلوے ڈویژن کے لیے 1 ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی تاکہ پنشن اور دیگر مالی واجبات ادا کیے جا سکیں۔ حکام نے پنشن واجبات کے جامع جائزے کی ہدایت بھی کی ہے کیونکہ پاکستان ریلوے کو مالی دباؤ اور سبسڈی انحصار جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
زرعی و غذائی شعبے میں نیشنل ایگریکلچر ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (NAFSA) کے لیے بھی 1 ارب روپے منظور کیے گئے۔ یہ ادارہ خوراک کے معیار، پودوں کی صحت، لائیو اسٹاک ریگولیشن اور زرعی کیمیکلز کی نگرانی کو بہتر بنائے گا تاکہ برآمدی معیار کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
ای سی سی نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیمِ نو کی اصولی منظوری دی، جس کے تحت 30 فیصد شیئرز کی فروخت اور انتظامی کنٹرول نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) کو منتقل کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد بحری شعبے میں کارکردگی اور مسابقت کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔
اجلاس میں قیمتی پتھروں کی ترقی کے لیے قومی پالیسی 2026–2030 کی بھی منظوری دی گئی، جس کے تحت کان کنی، برآمدات اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جائے گا۔ پالیسی کا فوکس گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے علاقوں پر ہوگا۔
ای سی سی نے ہدایت کی کہ منظور شدہ منصوبوں پر عملدرآمد کو فوری اور مؤثر بنایا جائے تاکہ معاشی اصلاحات اور ترقیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ حکام کے مطابق آئندہ مالی پالیسی کا انحصار بجٹ گنجائش اور بیرونی مالی حالات پر ہوگا۔
UrduLead UrduLead