منگل , مئی 19 2026

لیتھیم بیٹریوں کا متبادل سامنے آنے لگا

دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے ساتھ سستی اور ماحول دوست بیٹری ٹیکنالوجی کی تلاش تیز ہوگئی ہے، جبکہ چینی ماہرین نے آئرن اور سوڈیم پر مبنی نئی بیٹریوں میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔

دنیا بھر میں توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف متبادل بیٹری ٹیکنالوجیز پر تحقیق جاری ہے تاکہ شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی کو زیادہ مؤثر انداز میں محفوظ کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق لیتھیم آئن بیٹریاں کئی برسوں سے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کا اہم حصہ رہی ہیں، تاہم لیتھیم پر زیادہ انحصار، مہنگی لاگت اور ماحولیاتی خدشات نے نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت بڑھا دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق موجودہ لیتھیم آئن بیٹریوں میں استعمال ہونے والا لیتھیم محدود مقدار میں دستیاب ہے۔ دنیا کے تقریباً ایک تہائی لیتھیم کے ذخائر ارجنٹینا اور چلی کے نمکین میدانوں سے حاصل کیے جاتے ہیں، جہاں کان کنی کے لیے بڑی مقدار میں پانی استعمال ہوتا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خشک علاقوں میں پانی کے بے تحاشا استعمال سے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اسی طرح بیٹریوں میں استعمال ہونے والے کوبالٹ کا تقریباً 70 فیصد جمہوریہ کانگو سے حاصل کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق وہاں کان کنی کی صنعت میں بچوں سے مشقت اور غیر محفوظ حالات کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر متبادل بیٹری ٹیکنالوجیز کی تلاش تیز ہو گئی ہے۔

چین کے سائنس دانوں نے حال ہی میں ایک نئی الکلائن آل آئرن فلو بیٹری تیار کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹیٹیوٹ آف میٹل ریسرچ کے ماہرین کے مطابق یہ بیٹری کم لاگت والے اور وافر مقدار میں دستیاب آئرن سے تیار کی گئی ہے جبکہ اس میں پانی پر مبنی الیکٹرولائٹ استعمال کیا گیا ہے، جس کے باعث دھماکے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

سائنسی جریدے ایڈوانسڈ انرجی میٹریلز میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ نئی بیٹری 6 ہزار سے زائد چارج اور ڈسچارج سائیکل مکمل کر سکتی ہے، جو روزانہ استعمال کی صورت میں تقریباً 16 برس بنتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئرن دنیا میں سب سے زیادہ دستیاب دھاتوں میں شامل ہے اور اس کی قیمت خام لیتھیم کے مقابلے میں تقریباً 80 گنا کم ہے، جس سے مستقبل میں توانائی ذخیرہ کرنے کی لاگت نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔

فلو بیٹریاں مائع الیکٹرولائٹ کے ذریعے کام کرتی ہیں، جنہیں بیرونی ٹینکوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کی گنجائش بڑھانے کے لیے صرف بڑے ٹینک تعمیر کرنا پڑتے ہیں، جس سے یہ ٹیکنالوجی بڑے شمسی اور ہوا سے چلنے والے توانائی منصوبوں کے لیے موزوں بن جاتی ہے، تاہم موبائل فون یا چھوٹے الیکٹرانک آلات میں ان کا استعمال ممکن نہیں۔

سائنس دان کئی برسوں سے آل آئرن فلو بیٹری پر تحقیق کر رہے تھے، مگر انہیں کارکردگی میں کمی، کیمیائی عدم استحکام اور الیکٹرولائٹ کے اخراج جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ چینی محققین نے مالیکیولر سطح پر الیکٹرولائٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی کرکے ان مسائل پر قابو پانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ابتدائی تجربات میں مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، تاہم اب اس ٹیکنالوجی کو حقیقی ماحول میں آزمانا باقی ہے۔

دوسری جانب سوڈیم آئن بیٹری بھی مستقبل کی اہم ٹیکنالوجی تصور کی جا رہی ہے۔ سوڈیم لیتھیم کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستا اور آسانی سے دستیاب عنصر ہے۔ اگرچہ ایک ہی سائز کی سوڈیم بیٹری میں لیتھیم بیٹری کے مقابلے میں کم توانائی محفوظ کی جا سکتی ہے، تاہم کم قیمت کے باعث اسے بعض شعبوں میں مؤثر متبادل سمجھا جا رہا ہے۔

چین اس شعبے میں بھی سبقت لے رہا ہے۔ اپریل 2025 میں دنیا کی سب سے بڑی بیٹری ساز کمپنی CATL نے ہیوی ڈیوٹی ٹرکوں اور گاڑیوں کے لیے سوڈیم آئن بیٹریوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی نے اس نئی بیٹری ٹیکنالوجی کو “نیکسٹرا” کے نام سے متعارف کرایا۔

اسی سال چینی کمپنی یادیہ نے اپنے دو اور تین پہیوں والے اسکوٹروں میں سوڈیم آئن بیٹریوں کا استعمال شروع کیا۔ کمپنی نے بیٹری تبدیل کرنے کا نیا نظام بھی متعارف کرایا، جس کے تحت صارفین QR کوڈ اسکین کرکے استعمال شدہ بیٹری واپس اور نئی بیٹری حاصل کر سکتے ہیں۔

توانائی ماہرین کے مطابق متبادل بیٹری ٹیکنالوجیز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور تجارتی سطح پر استعمال سے پہلے مزید تحقیق اور تجربات درکار ہوں گے۔ تاہم حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں سوڈیم اور آئرن پر مبنی بیٹریاں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں لیتھیم آئن بیٹریوں کا مؤثر متبادل بن سکتی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

آزاد کشمیر میں کان کنی لیزز بحال

ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری کے بعد آزاد جموں و کشمیر میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے