
حکومت نے بروقت اقدامات اور پالیسی فیصلوں کے ذریعے جون 2026 میں بجلی صارفین کو 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے سے بچا لیا، جبکہ صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ تک ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
Ministry of Energy کے پاور ڈویژن نے کہا کہ ایران امریکہ تنازعے، آر ایل این جی کی قلت اور عالمی ایندھن قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے باوجود حکومت نے بجلی کے نرخ مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
وزارت کے مطابق اپریل 2026 کے لیے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا خدشہ تھا، تاہم حکومتی مداخلت، متبادل ایندھن کے استعمال اور معتدل لوڈ مینجمنٹ کے باعث اصل اضافہ صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رکھا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین کو 1.93 روپے فی یونٹ ریلیف دیا جا رہا ہے، جس کا مجموعی حجم تقریباً 65 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ رعایت آئندہ تین ماہ تک صارفین کو فراہم کی جائے گی۔
حکام کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ اور ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے اثرات ایک دوسرے کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں تقریباً برقرار رہیں گے۔
وزارت نے کہا کہ حکومت نے صرف اپریل کے مہینے میں تقریباً 38 ارب روپے کا اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے روک دیا۔ پاور ڈویژن کے مطابق مجموعی طور پر 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی صارفین کے حق میں گئی ہے۔
پاکستان کے بجلی شعبے کو حالیہ مہینوں میں عالمی ایندھن مارکیٹ کے دباؤ کا سامنا رہا۔ وزارت کے مطابق ریفرنس ٹیرف میں آر ایل این جی کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل برینٹ خام تیل کے مساوی رکھی گئی تھی، لیکن اپریل 2026 میں عالمی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔
بیان کے مطابق ایران امریکہ جنگ کے باعث آر ایل این جی سپلائی متاثر ہوئی، جس کے بعد حکومت نے مقامی گیس کی اضافی فراہمی، فرنس آئل اور درآمدی کوئلے سے بجلی پیداوار بڑھا کر بحران کو سنبھالا۔ وزارت نے کہا کہ ان اقدامات سے مہنگی بجلی کے ممکنہ اثرات کو محدود کیا گیا۔
حکام کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں کمی کی بڑی وجوہات بجلی طلب میں اضافہ، لائن لاسز میں کمی، نرخوں میں استحکام اور انکریمنٹل ٹیرف پیکیجز کے تحت زیادہ استعمال رہیں۔
National Electric Power Regulatory Authority نے بنیادی ٹیرف کا تعین ایندھن قیمتوں، شرح مبادلہ، طلب اور جنریشن مکس کی بنیاد پر کیا تھا، تاہم علاقائی کشیدگی نے توانائی مارکیٹ کی صورتحال یکسر تبدیل کر دی۔
پاکستان کا پاور سیکٹر اس وقت گردشی قرضے، مہنگے درآمدی ایندھن اور کمزور ترسیلی نظام جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت حالیہ مہینوں میں لائن لاسز کم کرنے، ریکوری بہتر بنانے اور متبادل توانائی ذرائع بڑھانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات تیز کر چکی ہے۔
UrduLead UrduLead