
اے آئی سلوپ سوشل میڈیا پر تیزی سے بڑھتا ہوا ایک نیا ڈیجیٹل رجحان بن گیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ غیر معیاری اور جذباتی مواد کو زیادہ ویوز اور آمدن کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ رجحان اس وقت سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مونیٹائزیشن پالیسیوں کے باعث زیادہ انگیجمنٹ والے مواد سے آمدن حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی نظام صارفین کو متنازع، اشتعال انگیز اور بعض اوقات گمراہ کن مواد بنانے کی طرف لے جا رہا ہے۔
بی بی سی اردو رپورٹس کے مطابق اے آئی سلوپ میں ویڈیوز، تصاویر اور آڈیوز شامل ہوتے ہیں جنہیں آسان اے آئی ٹولز کی مدد سے بنایا جاتا ہے۔ یہ مواد تیزی سے پھیلتا ہے اور اکثر سیاسی یا سماجی بیانیے کو متاثر کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 25 لاکھ مونیٹائزڈ اکاؤنٹس موجود تھے جو ایک سال کے اندر بڑھ کر 1 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گئے، یعنی 500 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مختصر ویڈیوز پر لاکھوں ویوز حاصل کر کے ہزاروں ڈالر تک آمدن ممکن ہو جاتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب آڈینس امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک سے ہو۔
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں بھی یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ہزاروں صارفین اے آئی ٹولز کے ذریعے انگریزی اور دیگر غیر ملکی زبانوں میں مواد تیار کر کے عالمی آڈینس کو ہدف بنا رہے ہیں۔
کچھ کیسز میں ایسے صارفین سامنے آئے ہیں جو خود کو غیر ملکی شہری ظاہر کر کے سیاسی اور سماجی موضوعات پر گمراہ کن مواد پھیلاتے ہیں۔ اس طرح کا مواد زیادہ تر انگیجمنٹ حاصل کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق پاکستان میں بھی اے آئی سے متعلق کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان میں ہراسانی اور بلیک میلنگ کے واقعات بھی شامل ہیں جن میں خواتین اور بچے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اب ایک غیر رسمی ڈیجیٹل انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں نوجوان تیزی سے آمدن کے لیے اس طرف جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا الگورتھمز ایسے مواد کو زیادہ فروغ دیتے ہیں جو زیادہ ردعمل پیدا کرے، جس سے اے آئی سلوپ مزید تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہزاروں اکاؤنٹس اس وقت سوشل میڈیا مونیٹائزیشن پروگرامز سے منسلک ہیں، جن میں سے بڑی تعداد انگریزی زبان میں مواد شائع کر رہی ہے تاکہ زیادہ ریونیو حاصل کیا جا سکے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اے آئی سلوپ کے بڑھتے ہوئے رجحان سے مستقبل میں ڈیپ فیک، انتخابی اثرات اور جعلی معلومات کے پھیلاؤ جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اگر پلیٹ فارم کمپنیوں اور ریاستی اداروں نے مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ رجحان مزید بڑھ سکتا ہے اور ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ ساتھ سماجی استحکام کے لیے بھی چیلنج بن سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead