قطری ایل این جی کارگو آبنائے ہرمز سے گزر کر پاکستان پہنچ گئے، توانائی کی کمی میں کمی اور خطے کی کشیدگی کے باوجود ترسیل کی بحالی

پاکستان کی ایل این جی درآمدات دوبارہ شروع ہو گئی ہیں، جب قطری کارگو بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر کر پاکستان پہنچ گئے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں بحری راستوں پر سکیورٹی خدشات اور کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں دو مائع قدرتی گیس کے جہاز پاکستان کی بندرگاہوں پر پہنچے ہیں۔
یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں جاری وسیع تر سکیورٹی تناؤ کے دوران سامنے آئی ہے جس نے توانائی کی ترسیلی شاہراہوں کو متاثر کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ ترسیلات ایک پیچیدہ سفارتی اور لاجسٹک عمل کے ذریعے ممکن بنائی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عمل میں قطر اور ایران کے ساتھ ہم آہنگی بھی شامل رہی۔
اسلام آباد کے توانائی حکام کے مطابق یہ شپمنٹس پاکستان کے طویل المدتی ایل این جی معاہدوں کا حصہ ہیں جو توانائی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ قطر سے درآمد شدہ یہ گیس کارگو ملک میں بجلی کی پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم سہارا ہیں، خاص طور پر طلب کے زیادہ ادوار میں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے حساس توانائی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق عالمی ایل این جی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کا فوری اثر درآمدی ممالک پر پڑتا ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
بحری تجزیاتی ادارے ونڈوارڈ کے مطابق حالیہ دنوں میں قطر سے منسلک ایل این جی جہازوں کی نقل و حرکت میں جزوی بحالی دیکھی گئی ہے۔ تاہم ادارے نے اسے مکمل بحالی کے بجائے محدود مگر اہم آپریشنل پیش رفت قرار دیا ہے۔ شپنگ کمپنیوں کو اب متبادل شیڈولز، سخت سکیورٹی اقدامات اور بڑھتی ہوئی انشورنس لاگت کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی 2024 کی گیس مارکیٹ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر یورپ اور ایشیا میں سپلائی شاکس کے بعد۔ اس صورتحال نے درآمدی ممالک کی مالی اور سبسڈی پالیسیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے حالیہ دنوں میں کم از کم دو قطری ایل این جی کارگو وصول کیے ہیں۔ ایک جہاز نے پہلے مرحلے میں ہرمز سے کامیابی سے گزر کر ترسیل مکمل کی جبکہ دوسرا اسی آپریشنل ونڈو کے دوران پہنچا۔ ایک جہاز کو “الخرعیتیات” کے طور پر شناخت کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر حالیہ رکاوٹوں کے بعد ہرمز سے گزرنے والا پہلا قطری ایل این جی ٹینکر تھا۔
یہ ترسیلات پاکستان کے لیے توانائی کے استحکام کے لحاظ سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ ملک میں گیس کی کمی کے باعث ماضی میں لوڈ شیڈنگ، صنعتی پیداوار میں کمی اور مہنگے متبادل ایندھن پر انحصار بڑھا ہے۔ بجلی کا بڑا حصہ اب بھی ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس سے حاصل کیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان قطر کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ ایل این جی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت محفوظ اور کنٹرولڈ سپلائی روٹس کے ذریعے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
عالمی بینک کی 2025 کی کموڈیٹی مارکیٹس آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث ایل این جی مارکیٹس میں عدم استحکام برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اس کا براہ راست اثر درآمدی معیشتوں کی لاگت اور مالی دباؤ پر پڑتا ہے۔
پاکستان نے 2015 کے بعد بڑھتے ہوئے گیس خسارے کے باعث قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کیے تھے۔ مقامی گیس ذخائر میں کمی اور شہری طلب میں اضافہ نے درآمدی انحصار کو بڑھا دیا ہے۔ حکومت نے ری گیسیفکیشن صلاحیت بڑھانے اور پائپ لائن نظام بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں، تاہم بنیادی ڈھانچے کے مسائل برقرار ہیں۔
بین الاقوامی سمندری تنظیم نے بھی اپنی رپورٹس میں آبنائے ہرمز جیسے حساس راستوں کو عالمی توانائی تجارت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ ایسے ادوار میں انشورنس اور فریٹ لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے جو بالآخر درآمدی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔
ان چیلنجز کے باوجود حالیہ ایل این جی ترسیلات اس بات کی علامت ہیں کہ معاہدہ شدہ سپلائی چین فعال ہے۔ ماہرین کے مطابق شپنگ کمپنیاں ترسیل روکنے کے بجائے شیڈول ایڈجسٹ کر رہی ہیں، جو جزوی نارملائزیشن کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستان کی توانائی حکمت عملی اب بھی ایل این جی درآمدات، مقامی گیس کی تلاش اور قابلِ تجدید توانائی کے امتزاج پر منحصر ہے۔ مستقبل میں بھی پاکستان کی توانائی پالیسی، معاشی
UrduLead UrduLead