
پاکستان نے چین میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کر دیا ہے، جسے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان اور چین کے درمیان مالیاتی تعاون کے نئے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی اور معاشی سفارت کاری میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
بیجنگ میں ہونے والی تقریب میں پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ اجرا کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اس اقدام کے ذریعے پاکستان کو پہلی مرتبہ چین کی مقامی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ پانڈا بانڈ پروگرام کی مجموعی مالیت ایک ارب ڈالر رکھی گئی ہے جبکہ ابتدائی اجرا 25 کروڑ ڈالر کے مساوی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اس اجرا میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb نے تقریب کے بعد چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پانڈا بانڈ کا کامیاب اجرا پاکستان کی معاشی استحکام، اصلاحاتی ایجنڈے اور اقتصادی سمت پر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ چین کی آن شور بانڈ مارکیٹ تک رسائی پاکستان کے لیے دنیا کی دوسری بڑی اور دوسری گہری کیپٹل مارکیٹ کے دروازے کھولتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی روابط مزید مضبوط ہوں گے جبکہ چینی کرنسی رینمنبی کی عالمی سطح پر اہمیت بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔
وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان تقریباً ایک چوتھائی دوطرفہ تجارت پہلے ہی رینمنبی اور چینی یوآن میں طے کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ رجحان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے مالیاتی انضمام اور اقتصادی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گزشتہ ایک دہائی میں دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ دی گئی تھی جبکہ دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، کاروباری شراکت داری اور انفراسٹرکچر اثاثوں کی منیٹائزیشن پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور چین رابطہ سازی، تجارت، سرمایہ کاری اور پائیدار اقتصادی ترقی کے اہداف پر یکساں سوچ رکھتے ہیں۔
پاکستان نے پانڈا بانڈ ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب حکومت بیرونی مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق حالیہ مہینوں میں مالیاتی اصلاحات اور سخت معاشی پالیسیوں کے باعث بیرونی کھاتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے۔ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے اصلاحاتی پروگرام پر بھی عمل کر رہا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے ابتدائی معاشی اثرات، بالخصوص سپلائی اور لاجسٹکس کے مسائل، کامیابی سے سنبھالے ہیں جبکہ اہم معاشی اشاریے بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں اور ڈیجیٹل گورننس کے شعبوں میں جاری اصلاحات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں۔
تقریب میں چین کی وزارت خزانہ، پیپلز بینک آف چائنا، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ وزیر خزانہ نے چینی حکومت، مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون سے پاکستان کی چینی بانڈ مارکیٹ میں کامیاب رسائی ممکن ہوئی۔
ماہرین معیشت کے مطابق چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں پاکستان کا داخلہ مستقبل میں مزید خودمختار بانڈ اجرا اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے مالیاتی روابط کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead