
پاکستان نے چین کی مقامی مالیاتی منڈی میں اپنے پہلے پانڈا بانڈ کے ذریعے 1.75 ارب آر ایم بی حاصل کرلیے، جبکہ بانڈ کو پانچ گنا سے زائد سبسکرپشن ملی، جو ملکی معاشی بحالی پر عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کی عکاسی ہے۔
پاکستان نے جمعرات کو چین کی آن شور کیپٹل مارکیٹ میں اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ کامیابی سے جاری کردیا، جس کے ساتھ ہی ملک نے پہلی بار چینی کرنسی میں خودمختار بانڈ کے ذریعے دنیا کی دوسری بڑی بانڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل کرلی۔
تین سالہ فکسڈ ریٹ بانڈ کے ذریعے پاکستان نے 1.75 ارب آر ایم بی، یعنی تقریباً 25 کروڑ ڈالر حاصل کیے۔ حکام کے مطابق بانڈ پر 2.5 فیصد منافع مقرر کیا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں کی مجموعی بولیاں 8.8 ارب آر ایم بی، یعنی تقریباً 1.26 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کے نتیجے میں بانڈ کو پانچ گنا سے زیادہ سبسکرپشن ملی۔
حکام نے بتایا کہ ابتدائی اجرا کے لیے موصول ہونے والی طلب پاکستان کے مجموعی پانڈا بانڈ پروگرام، جس کا حجم 7.2 ارب آر ایم بی یا تقریباً ایک ارب ڈالر رکھا گیا ہے، سے بھی زیادہ رہی۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی معیشت اور اصلاحاتی پالیسیوں پر عالمی اعتماد کا اہم اشارہ قرار دیا جارہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اجرا پاکستان کے لیے صرف ایک مالیاتی معاہدہ نہیں بلکہ چین کی مقامی سرمایہ مارکیٹ میں اسٹریٹجک داخلے کی علامت ہے۔ اس سے پاکستان کو ڈالر پر انحصار کم کرنے اور سرمایہ کاروں کی بنیاد وسیع کرنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان گزشتہ دو برسوں کے دوران شدید ادائیگیوں کے بحران، زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر اور بلند مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرتا رہا۔ تاہم آئی ایم ایف پروگرام، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور درآمدی کنٹرولز کے باعث معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق زرمبادلہ ذخائر اور جاری کھاتوں کے توازن میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں استحکام آیا ہے۔
چین پاکستان کا سب سے بڑا دوطرفہ قرض دہندہ اور اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت مزید مضبوط ہوا، جس کے ذریعے توانائی، بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ کے کئی بڑے منصوبے مکمل کیے گئے۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2.5 فیصد کی کم شرح پر بانڈ کا اجرا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کی قرض ادائیگی صلاحیت اور معاشی استحکام میں بہتری کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح گزشتہ سال کی بلند سطح سے نمایاں کم ہوئی ہے، جبکہ ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافے نے بیرونی کھاتوں پر دباؤ کم کیا ہے۔
پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں بتدریج واپسی بھی تصور کیا جارہا ہے۔ پاکستان نے اس سے قبل یورو بانڈز اور سکوک کے ذریعے عالمی سرمایہ منڈیوں سے فنڈز حاصل کیے تھے، تاہم عالمی شرح سود میں اضافے اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث بین الاقوامی مارکیٹس تک رسائی محدود ہوگئی تھی۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ تک رسائی پاکستان کے لیے نسبتاً کم لاگت اور مستحکم مالیاتی ذرائع فراہم کرسکتی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحات اور سیاسی استحکام ناگزیر ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پانڈا بانڈ کا کامیاب اجرا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان بحران سے استحکام اور استحکام سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ مستقبل میں مزید آر ایم بی بنیادوں پر فنڈنگ کے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے پاکستان کی ایشیائی سرمایہ منڈیوں میں موجودگی مزید مضبوط ہوگی۔
UrduLead UrduLead