بدھ , مئی 13 2026

آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول: SBP

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 1.3 ارب ڈالر کی مالی معاونت موصول ہوئی ہے جو ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) کے تحت دی گئی ہے۔ یہ رقوم پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے 08 مئی 2026 کو پاکستان کے پروگرام کا تیسرا جائزہ مکمل کیا، جس کے بعد ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت SDR 760 ملین کی قسط کی منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت SDR 154 ملین کی دوسری قسط بھی منظور کی گئی۔

مجموعی طور پر پاکستان کو SDR 914 ملین موصول ہوئے جو موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق تقریباً 1.3 ارب امریکی ڈالر بنتے ہیں۔ یہ رقم 12 مئی 2026 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کی گئی اور اسے 15 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے زرمبادلہ ذخائر میں شامل کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت یہ پیش رفت پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن کو سہارا دینے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ملک کو حالیہ برسوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، درآمدی دباؤ اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں جیسے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ برقرار رہا ہے۔

ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت پاکستان نے مالیاتی خسارے میں کمی، ٹیکس محصولات میں اضافہ اور توانائی شعبے میں اصلاحات جیسے اقدامات کیے ہیں۔ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کے شعبے میں طویل المدتی اصلاحات پر توجہ دی جا رہی ہے۔

اس سے قبل بھی پاکستان متعدد بار آئی ایم ایف پروگرامز کا حصہ رہا ہے، اور تاریخی طور پر یہ معاہدے معاشی استحکام اور بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق بیرونی مالیاتی آمد سے زرمبادلہ ذخائر میں وقتی بہتری آتی ہے، تاہم پائیدار استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

آئی ایم ایف نے اپنے حالیہ جائزوں میں پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھے، توانائی اصلاحات جاری رکھے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے تاکہ پروگرام کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ عالمی سطح پر بھی آئی ایم ایف کمزور معیشتوں کے لیے ریزیلینس فنڈنگ کو فروغ دے رہا ہے تاکہ موسمیاتی اور مالی خطرات سے نمٹا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مالی معاونت مختصر مدت میں زرمبادلہ کے دباؤ کو کم کرے گی، تاہم طویل المدتی استحکام کا انحصار ساختی اصلاحات اور مستقل بیرونی آمدنی پر ہوگا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان آنے والے ہفتے میں ان رقوم کو اپنے ذخائر کے اعداد و شمار میں ظاہر کرے گا۔

مجموعی طور پر ملکی معیشت کی سمت اب بھی آئی ایم ایف پروگرام کی کارکردگی، مالی پالیسیوں اور بیرونی مالی بہاؤ سے جڑی ہوئی ہے، اور اس پورے عمل میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

کیمبرج ریاضی کا دوسرا پرچہ بھی لیک

کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کے اے ایس لیول ریاضی کے دوسرے پرچے کے بھی لیک ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے