بدھ , مئی 13 2026

آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے قسط منظور

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے جمعہ کو پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کا تازہ جائزہ منظور کرتے ہوئے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی، جس سے ملک کو جاری بیل آؤٹ پروگرام کے تحت اہم مالی سہارا حاصل ہوگا۔

منظور شدہ رقم میں تقریباً 1 ارب ڈالر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) جبکہ 20 کروڑ ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تحت شامل ہیں۔ اس نئی قسط کے بعد موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں منظوری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی مشکل مگر ضروری معاشی اصلاحات پر پیش رفت کا اعتراف ہے۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوا۔

آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے پروگرام کے تحت اہم ساختی اہداف حاصل کیے ہیں، جن میں ٹیکس اصلاحات اور توانائی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں، جن کا مقصد مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔

فنڈ کے مطابق پاکستان نے مشکل عالمی حالات کے باوجود اصلاحاتی پروگرام پر مؤثر عملدرآمد جاری رکھا، جس سے معاشی استحکام اور زرمبادلہ ذخائر کی بحالی میں مدد ملی۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث بیرونی خطرات میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے پاکستان کو مضبوط معاشی پالیسیوں اور ساختی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا تاکہ پائیدار ترقی ممکن بنائی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی معاشی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ مالی سال 26 کے پہلے نو ماہ میں جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ ہوا، کرنٹ اکاؤنٹ تقریباً متوازن رہا جبکہ مہنگائی مجموعی طور پر قابو میں رہی، اگرچہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث توانائی نرخوں پر دباؤ بڑھا۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بھی بہتر ہوئے اور دسمبر 2025 کے اختتام تک 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو جون 2025 کے اختتام پر 14.5 ارب ڈالر تھے۔ فنڈ نے امید ظاہر کی کہ پروگرام کے تحت مالی معاونت اور پالیسی نظم و ضبط کے باعث ذخائر مزید مستحکم ہوں گے۔

آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اور قائم مقام چیئرمین نائجل کلارک نے کہا کہ پاکستان کو غیر یقینی عالمی ماحول میں سخت مالیاتی اور معاشی پالیسیاں برقرار رکھتے ہوئے اصلاحات میں تیزی لانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بتدریج مالیاتی استحکام معیشت کو مضبوط بنانے اور کمزوریوں میں کمی کے لیے ضروری ہے۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس نیٹ بڑھانے، ٹیکس وصولی بہتر بنانے اور ریٹیل و زرعی شعبوں سمیت کم ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں سے زیادہ محصولات حاصل کرنے پر زور دیا۔

فنڈ نے کہا کہ بہتر مالیاتی نظم و ضبط سے سماجی تحفظ، تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوں گے۔ آئی ایم ایف نے اخراجات کے مؤثر استعمال اور پبلک فنانشل مینجمنٹ میں بہتری کی بھی ضرورت پر زور دیا۔

مانیٹری پالیسی کے حوالے سے آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سخت پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ افراط زر کی توقعات کو قابو میں رکھنے کے لیے محتاط پالیسی برقرار رکھنا ضروری ہے۔

فنڈ نے یہ بھی کہا کہ زرمبادلہ ذخائر کی بحالی کے دوران ایکسچینج ریٹ میں لچک پاکستان کے لیے اہم حفاظتی کردار ادا کرے گی۔ آئی ایم ایف نے فارن ایکسچینج مارکیٹ میں مزید اصلاحات اور مرحلہ وار لبرلائزیشن کی حمایت بھی کی۔

توانائی شعبے کی اصلاحات کو پروگرام کا مرکزی حصہ قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں کو لاگت کے مطابق رکھنے کی پالیسی جاری رہنی چاہیے جبکہ غریب صارفین کو ہدفی سبسڈی فراہم کی جائے۔

فنڈ نے سرکاری اداروں کی نجکاری، گورننس اصلاحات، انسداد بدعنوانی اقدامات اور کاروباری ماحول میں بہتری پر بھی زور دیا تاکہ معیشت کی مسابقت اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔

پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے 37 ماہ پر مشتمل آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، جس کا مقصد مالیاتی نظم و ضبط، ساختی اصلاحات اور طویل مدتی معاشی استحکام کے ذریعے معیشت کو سہارا دینا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کی تازہ منظوری سے مالیاتی منڈیوں کو وقتی استحکام ملے گا، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مالی خسارہ 9 ماہ میں 856 ارب روپے تک پہنچ گیا

مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں پاکستان کی مالی صورتحال شدید دباؤ کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے